675/875 عن ابن عمر قال: قدم رجلان من المشرق خطيبان على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقاما فتكلما ثم قعدا. وقام ثابت بن قيس؛ خطيب رسول الله صلى الله عليه وسلم فتكلم، فعجب الناس من كلامهما. فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب، فقال: " يا أيها الناس! قولوا قولكم، فإنما تشقيق الكلام(2) من الشيطان". ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " إن من البيان سحراً".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مشرق کی طرف سے دو خطیب آدمی آئے، وہ کھڑے ہوئے اور گفتگو کی پھر بیٹھ گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطیب سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور گفتگو کی۔ لوگوں کو ان دونوں کے کلام پر تعجب ہوا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو! اپنی (سیدھی سادی) بات کہو، کیونکہ باتوں کو (تکلف سے) باریک بنانا شیطان کی طرف سے ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک بعض بیان جادو (کا سا اثر رکھتے) ہیں۔“
676/876 عن أنس قال: خطب رجل عند عمر، فاكثر الكلام، فقال عمر: " إن كثرة الكلام في الخطب من شقاشق الشيطان"(3).
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک آدمی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس خطبہ دیا اور بہت زیادہ باتیں کیں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”خطبوں میں زیادہ باتیں کرنا شیطان کی بکواس (میں سے) ہے۔“
677/877- عن أبي يزيد – أو : معن بن يزيد- أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " اجتمعوا في مساجدكم، وكلما اجتمع قوم فليؤذنوني". فأتانا أول من أتى، فجلس، فتكلم متكلم منا، ثم قال: إن الحمد لله الذي ليس للحمد دونه مقصد ولا وراءه منفذ، فغضب فقام، فتلاومنا بيننا، فقلنا: أتانا أول من أتى، فذهب إلى مسجد آخر فجلس فيه، فأتيناه فكلمناه، فجاء معنا فقعد في مجلسه أو قريباً من مجلسه.ثم قال: " الحمد لله الذي ما شاء جعل بين يديه، وما شاء جعل خلفه، وإن من البيان سحراً". ثم أمرنا وعلمنا.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابویزید - یا معن بن یزید - رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی مسجدوں میں جمع ہوا کرو، اور جب بھی کوئی قوم جمع ہو تو مجھے اطلاع دے۔“ چنانچہ (جب ہم جمع ہوئے تو) آپ سب سے پہلے ہمارے پاس تشریف لائے اور بیٹھ گئے۔ ہم میں سے ایک بولنے والے نے گفتگو کی، پھر کہا: بیشک تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس کے سوا حمد کا کوئی مقصود نہیں اور نہ اس سے آگے کوئی راستہ ہے۔ اس پر آپ ناراض ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ ہم نے آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کی اور کہا: آپ سب سے پہلے ہمارے پاس تشریف لائے تھے (اور ہم نے آپ کو ناراض کر دیا)۔ پھر آپ ایک دوسری مسجد میں جا کر بیٹھ گئے، ہم آپ کے پاس گئے اور آپ سے بات کی، تو آپ ہمارے ساتھ تشریف لائے اور اپنی (پہلی) جگہ پر یا اس کے قریب بیٹھ گئے، پھر فرمایا: ”تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے جو چاہا اپنے آگے رکھا اور جو چاہا اپنے پیچھے رکھا، اور بیشک بعض بیان جادو (کا سا اثر رکھتے) ہیں۔“ پھر آپ نے ہمیں (کچھ باتوں کا) حکم دیا اور ہمیں تعلیم دی۔