606/784-( حسن الإسناد) عن عبد الله بن دينار قال: خرجت مع عبد الله بن عمر إلى السوق، فمر على جارية صغيرة تغني فقال: " إن الشيطان لو ترك أحداً لترك هذه". 607/786- (صحيح الإسناد) عن ابن عباس: ? ومن الناس من يشتري لهوا لحديث ? [لقمان: 6]، قال: "الغناء وأشباهه".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بازار کی طرف نکلا، تو ان کا گزر ایک چھوٹی لڑکی کے پاس سے ہوا جو گانا گا رہی تھی، تو انہوں نے فرمایا: ”اگر شیطان کسی کو چھوڑتا تو اس (لڑکی) کو چھوڑ دیتا۔“
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ}، )لقمان:6( قَالَ: الْغِنَاءُ وَأَشْبَاهُهُ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے (اللہ تعالیٰ کے فرمان) «وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ» ”اور لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو غافل کرنے والی بات خریدتا ہے“ (لقمان: 6) کے بارے میں فرمایا: (اس سے مراد) گانا اور اس جیسی چیزیں ہیں۔
608/787-(حسن) عن البراء بن عازب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " أفشوا السلام تسلموا، والأشرَةُ شرّ". قال أبو معاوية: والأشرة: العبث.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلام کو عام کرو، سلامت رہو گے، اور اَشَرَہ برائی ہے۔“ ابومعاویہ نے کہا: اَشَرَہ سے مراد بے مقصد کھیل کود (فضول کام) ہے۔