943/1238 (حسن الإسناد) عن السائب [ هو ابن يزيد]، عن عمر قال: "ربما قعد على باب ابن مسعود رجال، قريش، فإذا فاء الفيء، قال: قوموا(1)، فما بقي فهو للشيطان"، ثم لا يمر على أحد إلا أقامه. قال: ثم بينا هو كذلك إذ قيل: هذا مولى بني الحسحاس يقول الشعر، فدعاه فقال: كيف قلت؟ فقال: ودع سليمى إن تجهزت غازياً ……كفى الشيب والإسلام للمرء ناهيا فقال: حسبك، صدقت صدقت.سیدنا سائب (بن یزید) رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: بسا اوقات سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے دروازے پر قریش کے کچھ لوگ بیٹھ جاتے، تو جب سایہ ڈھل جاتا تو (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ) فرماتے: ”اٹھو (اور قیلولہ کرو)، جو (وقت) باقی رہ گیا ہے وہ شیطان کا ہے۔“ پھر وہ جس کے پاس سے بھی گزرتے اسے اٹھا دیتے۔ راوی کہتے ہیں: پھر ایک دفعہ وہ اسی حال میں تھے کہ کہا گیا: یہ بنو حسحاس کا آزاد کردہ غلام ہے جو شعر کہتا ہے۔ آپ نے اسے بلایا اور فرمایا: تم نے کیا کہا ہے؟ اس نے کہا: «ودع سليمى إن تجهزت غازيا ... كفى الشيب والإسلام للمرء ناهيا» ”اگر تو جہاد کے لیے تیار ہو چکا ہے تو سلیمیٰ کو الوداع کہہ دے، آدمی کو (برائی سے) روکنے کے لیے بڑھاپا اور اسلام کافی ہیں۔“ تو آپ نے فرمایا: بس کرو، تم نے سچ کہا، تم نے سچ کہا۔