883/1152 (صحيح) عن أبي هريرة: خرج النبي صلى الله عليه وسلم في طائفة [النهار] لا يكلمني ولا أكلمه، حتى أتى سوق بني قينقاع، فجلس بفناء بيت فاطمة؛ فقال: "أثم لكع؟ أثم لكع؟" (3) فحبسته شيئاً، فظننت أنها تلبسه سخاباً أو تغسله، فجاء يشتد حتى عانقه وقبله، وقال: "اللهم أحبِبْه(4)، وأحبب من يحبه".سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم دن کے ایک حصے میں نکلے، نہ آپ مجھ سے بات کر رہے تھے اور نہ میں آپ سے بات کر رہا تھا، یہاں تک کہ آپ بنو قینقاع کے بازار میں آئے، پھر سیدہ فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کے گھر کے صحن میں بیٹھ گئے اور فرمایا: ”کیا یہاں ننھا ہے؟ کیا یہاں ننھا ہے؟“ (یعنی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ) تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں کچھ دیر روکے رکھا، میں نے گمان کیا کہ وہ انہیں (خوشبودار دانوں کا) ہار پہنا رہی ہیں یا انہیں نہلا رہی ہیں، پھر وہ دوڑتے ہوئے آئے یہاں تک کہ آپ نے انہیں گلے لگایا اور ان کا بوسہ لیا، اور فرمایا: «اللهم أحبِبْه، وأحبب من يحبه» ”اے اللہ! اس سے محبت فرما اور جو اس سے محبت کرے اس سے بھی محبت فرما ۔“