882/1151 (صحيح) عن أبي موسى الأشعري قال: خرج النبي صلى الله عليه وسلم يوماً إلى حائط من حوائط المدينة؛ لحاجته، وخرجت في أثره، فلما دخل الحائط جلست على بابه، وقلت: لأكونن اليوم بواب النبي صلى الله عليه وسلم، ولم يأمرني(1)، فذهب النبي صلى الله عليه وسلم فقضى حاجته وجلس على قف البئر، وكشف عن ساقيه، ودلاهما في البئر، فجاء أبو بكر رضي الله عنه ليستأذن عليه ليدخل، فقلت: كما أنت، حتى أستأذن لك، فوقف، وجئت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت: يا رسول الله! أبو بكر يستأذن عليك؟ فقال: "ائذن له، وبشره بالجنة". فدخل، فجاء(2) عن يمين النبي صلى الله عليه وسلم، فكشف عن ساقيه ودلاهما في البئر، فجاء عمر فقلت كما أنت حتى استأذن لك، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : "ائذن له، وبشره بالجنة"، فجاء عمر عن يسار النبي صلى الله عليه وسلم فكشف عن ساقيه ودلاهما في البئر فامتلأ القف، فلم يكن في مجلس. ثم جاء عثمان، فقلت: كما أنت، حتى أستأذن لك، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : "ائذن له، وبشره بالجنة معها بلاء يصيبه". فدخل، فلم يجد معهم مجلساً، فتحول حتى جاء مقابلهم، على شفة البئر، فكشف عن ساقيه، ثم دلاهما في البئر. فجعلت أتمنى أن يأتي أخٌ لي، وأدعو الله أن يأتي به، فلم يأت حتى قاموا. قال ابن المسيب: فأولت ذلك قبورهم؛ اجتمعت ها هنا، وانفرد عثمان.سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن اپنی کسی ضرورت سے مدینہ کے باغوں میں سے ایک باغ کی طرف نکلے، اور میں آپ کے پیچھے پیچھے نکلا، جب آپ باغ میں داخل ہو گئے تو میں اس کے دروازے پر بیٹھ گیا اور (دل میں) کہا: آج میں ضرور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دربان بنوں گا، حالانکہ آپ نے مجھے اس کا حکم نہیں دیا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گئے اور اپنی ضرورت پوری کی، اور کنویں کی منڈیر پر بیٹھ گئے، اپنی دونوں پنڈلیوں سے کپڑا ہٹایا اور انہیں کنویں میں لٹکا دیا۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے تاکہ آپ سے اندر آنے کی اجازت طلب کریں، میں نے کہا: اپنی جگہ ٹھہریے، یہاں تک کہ میں آپ کے لیے اجازت لے لوں۔ وہ ٹھہر گئے، اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ابوبکر آپ سے (اندر آنے کی) اجازت مانگ رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”انہیں اجازت دے دو اور انہیں جنت کی خوشخبری دے دو ۔“ چنانچہ وہ اندر آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب آ (کر بیٹھ) گئے، اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹایا اور انہیں کنویں میں لٹکا دیا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تو میں نے کہا: اپنی جگہ ٹھہریے، یہاں تک کہ میں آپ کے لیے اجازت لے لوں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”انہیں اجازت دے دو اور انہیں جنت کی خوشخبری دے دو ۔“ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب آ (کر بیٹھ) گئے، اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹایا اور انہیں کنویں میں لٹکا دیا، تو منڈیر بھر گئی اور (اس پر) بیٹھنے کی جگہ نہ رہی۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے، میں نے کہا: اپنی جگہ ٹھہریے، یہاں تک کہ میں آپ کے لیے اجازت لے لوں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”انہیں اجازت دے دو اور انہیں جنت کی خوشخبری دے دو، اس کے ساتھ ایک آزمائش ہے جو انہیں پہنچے گی ۔“ چنانچہ وہ اندر آئے تو انہوں نے ان کے ساتھ بیٹھنے کی جگہ نہ پائی، تو وہ گھوم کر ان کے سامنے کنویں کے کنارے پر آ گئے، اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹایا، پھر انہیں کنویں میں لٹکا دیا۔ میں تمنا کرنے لگا کہ میرا کوئی بھائی (بھی) آ جائے، اور میں اللہ سے دعا کرنے لگا کہ وہ اسے لے آئے، مگر وہ نہ آیا یہاں تک کہ وہ (سب) اٹھ گئے۔ (سعید) بن مسیب نے کہا: میں نے اس کی تعبیر ان کی قبروں سے کی کہ (تینوں کی قبریں) یہاں اکٹھی ہیں اور عثمان (رضی اللہ عنہ کی قبر) الگ ہے۔