حدیث نمبر: 4237
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، فَلَقِيتُ : أَبَا الْمَلِيحِ , فَسَأَلْتُهُ ؟ فَحَدَّثَنِي عَنْ نُبَيْشَةَ الْهُذَلِيِّ , قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا كُنَّا نَعْتِرُ عَتِيرَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ , فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ : " اذْبَحُوا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ , وَبَرُّوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَطْعِمُوا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´نبیشہ ہذلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم لوگ زمانہ جاہلیت میں عتیرہ ذبح کرتے تھے ، تو اب آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے جس مہینے میں چاہو ذبح کرو ، اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور لوگوں کو کھلاؤ “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الفرع والعتيرة / حدیث: 4237
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 4233 (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2830 | سنن ابن ماجه: 3167 | سنن نسائي: 4233 | سنن نسائي: 4234 | سنن نسائي: 4236

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4233 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´عتیرہ کی تفسیر۔`
نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بتایا گیا کہ ہم لوگ جاہلیت میں عتیرہ ذبح کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: اللہ کے لیے ذبح کرو چاہے کوئی سا مہینہ ہو، اور اللہ کے لیے نیک کام کرو اور لوگوں کو کھلاؤ۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4233]
اردو حاشہ: مقصود یہ ہے کہ نیکی کے لیے کسی مہینے کی قید نہیں، کسی بھی وقت غریبوں کو کھلایا جا سکتا ہے۔ رجب کی قید مناسب نہیں۔ اپنی طرف سے کسی مہینے، دن یا وقت کو متعین کر لینا اور پھر اس کو واجب یا افضل خیال کرنا صحیح نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی نیکی کے لیے خاص اوقات وایام اور ماہ وسال مقرر کرنا کسی انسان کاحق ہے نہ اس کی ذمہ داری، بلکہ نیکی کے لیے وقت کی تعیین صرف اﷲ تعالیٰ کا حق ہے۔ اس میں تصرف کا اختیار کسی اور کو نہیں۔ مزید برآں یہ بھی ضروری ہے کہ نیکی کی کیفیت اور مقدار وہی معتبر ہوگی جو شریعت نے مقرر کر دی ہے۔ اس سے تجارز بدعات اور ایجادِ بندہ قرار پائیں گی۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4233 سے ماخوذ ہے۔