کتب حدیث ›
موطا امام مالك رواية يحييٰ › ابواب
› باب: بعد صبح اور بعد عصر کے نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ وَمَعَهَا قَرْنُ الشَّيْطَانِ ، فَإِذَا ارْتَفَعَتْ فَارَقَهَا ثُمَّ إِذَا اسْتَوَتْ قَارَنَهَا ، فَإِذَا زَالَتْ فَارَقَهَا فَإِذَا دَنَتْ لِلْغُرُوبِ قَارَنَهَا ، فَإِذَا غَرَبَتْ فَارَقَهَا " وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي تِلْكَ السَّاعَاتِ
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آفتاب نکلتا ہے تو شیطان اس کے نزدیک ہوتا ہے، اور جب بلند ہو جاتا ہے تو اس سے الگ ہو جاتا ہے، پھر جب سر پر آجاتا ہے تو نزدیک ہو جاتا ہے، پھر جب ڈھل جاتا ہے تو الگ ہوجاتا ہے، پھر جب ڈوبنے لگتا ہے تو نزدیک ہو جاتا ہے، پھر جب ڈوب جاتا ہے الگ ہو جاتا ہے۔“ اور منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ساعتوں میں نماز پڑھنے سے۔
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّى تَبْرُزَ ، وَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّى تَغِيبَ "
علامہ وحید الزماں
حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”جب کنارہ آفتاب کا نکلے تو نماز میں توقف کرو یہاں تک کہ پورا آفتاب نکل آئے، اور جب کنارہ آفتاب کا ڈوب جائے تو توقف کرو یہاں تک کہ پورا آفتاب ڈوب جائے۔“
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بَعْدَ الظُّهْرِ فَقَامَ يُصَلِّي الْعَصْرَ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ ذَكَرْنَا تَعْجِيلَ الصَّلَاةِ أَوْ ذَكَرَهَا فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ ، تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ ، تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ ، يَجْلِسُ أَحَدُهُمْ حَتَّى إِذَا اصْفَرَّتِ الشَّمْسُ وَكَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ أَوْ عَلَى قَرْنِ الشَّيْطَانِ ، قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا "
علامہ وحید الزماں
حضرت علاء بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ہم گئے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس بعد ظہر کے، تو کھڑے ہوئے وہ نمازِ عصر کے واسطے۔ پس جب فارغ ہوئے نماز سے، بیان کیا ہم نے یا انہوں نے، نماز جلد پڑھنے کا حال، تو کہا سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے، سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، فرماتے تھے: ”یہ نماز منافقوں کی ہے، یہ نماز منافقوں کی ہے، یہ نماز منافقوں کی ہے کہ بیٹھے رہتے ہیں جب آفتاب زرد ہو جاتا ہے، اور شیطان کے سر کی دونوں جانبوں کے بیچ میں ہوتا ہے یا ان کے اوپر ہوتا ہے، تو کھڑے ہو کر چار ٹھونگے لگا لیتا ہے، اس میں نہیں یاد کرتا ہے اللہ کو مگر تھوڑا۔“
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَتَحَرَّ أَحَدُكُمْ فَيُصَلِّيَ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَلَا عِنْدَ غُرُوبِهَا "
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی تم میں سے قصد کر کے نماز نہ پڑھے آفتاب کے طلوع اور غروب کے وقت۔“
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، وَعَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ "
علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا نماز سے بعد عصر کے یہاں تک کہ ڈوب جائے آفتاب، اور بعد صبح کے یہاں تک کہ نکل آئے آفتاب۔
عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ يَقُولُ : لَا تَحَرَّوْا بِصَلَاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ ، وَلَا غُرُوبَهَا ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَطْلُعُ قَرْنَاهُ مَعَ طُلُوعِ الشَّمْسِ ، وَيَغْرُبَانِ مَعَ غُرُوبِهَا ، وَكَانَ يَضْرِبُ النَّاسَ عَلَى تِلْكَ الصَّلَاةِ.
علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: قصد نہ کرو نماز کا آفتاب کے طلوع اور غروب کے وقت، کیونکہ شیطان کے دو جانب سر کے ساتھ نکلتے ہیں آفتاب کے اور ساتھ ہی ڈوبتے ہیں۔ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مارتے تھے لوگوں کو اس وقت نماز پڑھنے پر۔
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ رَأَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَضْرِبُ الْمُنْكَدِرَ فِي الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ.
علامہ وحید الزماں
حضرت سائب بن یزید نے دیکھا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو مارتے تھے منکدر کو اس لیے کہ انہوں نے نماز پڑھی تھی بعد عصر کے۔