حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : " رَآنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَنَا أَدْعُو ، وَأُشِيرُ بِأُصْبُعَيْنِ صَبْعٍ مِنْ كُلِّ يَدٍ فَنَهَانِي "
علامہ وحید الزماں
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ دیکھا مجھ کو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے دعا کرتے ہوئے اور میں دو انگلیوں سے اشارہ کرتا تھا، ہر ایک ہاتھ کی ایک ایک انگلی تھی، سو منع کیا مجھ کو۔
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، كَانَ يَقُولُ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيُرْفَعُ بِدُعَاءِ وَلَدِهِ مِنْ بَعْدِهِ " ، وَقَالَ بِيَدَيْهِ نَحْوَ السَّمَاءِ فَرَفَعَهُمَا
علامہ وحید الزماں
سعید بن مسیّب کہتے تھے: بے شک آدمی کا درجہ بلند ہو جاتا ہے اس کے لڑکے کے دعا کرنے سے، بعد اس کے مر جانے کے، اور اشارہ کیا آپ نے دونوں ہاتھوں سے آسمانوں کی طرف پھر اٹھایا ان کو۔
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا فِي الدُّعَاءِ "
علامہ وحید الزماں
حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ یہ آیت «﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا، وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا﴾ [الإسراء: 110]» دعا کے بارے میں اتری ہے۔
قَالَ يَحْيَى : وَسُئِلَ مَالِك ، عَنِ الدُّعَاءِ فِي الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ ، فَقَالَ : لَا بَأْسَ بِالدُّعَاءِ فِيهَا
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ نمازِ فرض میں دعا مانگنا کیسا ہے؟ بولے: کچھ حرج نہیں ہے۔
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو فَيَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ ، وَإِذَا أَرَدْتَ فِي النَّاسِ فِتْنَةً فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مَفْتُونٍ "
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا مانگتے تھے: ”یا اللہ! میں مانگتا ہوں تجھ سے نیک کام کرنا، اور برے کاموں کا چھوڑنا، اور محبت غریبوں کی، اور جب تو کسی بلا کو لوگوں میں اُتارنا چاہے تو مجھے اپنے پاس بُلا اس سے بچا کر۔“
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ دَاعٍ يَدْعُو إِلَى هُدًى ، إِلَّا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنِ اتَّبَعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا ، وَمَا مِنْ دَاعٍ يَدْعُو إِلَى ضَلَالَةٍ ، إِلَّا كَانَ عَلَيْهِ مِثْلُ أَوْزَارِهِمْ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا "
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ہدایت کی طرف بلائے تو اس کی مثل اس کو ثواب ملے گا جو اس کی پیروی کرے، کچھ کم نہ ہو ا اس کے ثواب سے، اور جو شخص گمراہی کی طرف بلائے اس پر اتنا گناہ ہو گا جتنا پیروی کرنے والے پر ہو گا، کچھ کم نہ ہو گا پیروی کرنے والے کے گناہ سے۔“
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنْ أَئِمَّةِ الْمُتَّقِينَ "
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: یا اللہ! مجھ کو متقیوں کا پیشوا بنانا۔
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ كَانَ يَقُومُ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ ، فَيَقُولُ : " نَامَتِ الْعُيُونُ وَغَارَتِ النُّجُومُ وَأَنْتَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ "
علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ جب اٹھتے تھے رات کو تو کہتے تھے: سو گئیں آنکھیں اور غائب ہو گئے تارے اور تو اے پروردگار! زندہ ہے بیدار ہے۔