أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا بِشْر بن المفضَّل، حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق، عن سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "ضِرسُ الكافر يومَ القيامة مثلُ أُحدٍ، وعَرْضُ جلدِه سبعون ذراعًا، وعَضُدُه مثلُ البَيضاء، وفَخِذه مثلُ وَرِقانَ (3)، ومَقعَده من النار ما بيني وبين الرَّبَدَةِ (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتَّفقا على ذِكْرِ ضِرْس الكافر فقط (1)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8759 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتَّفقا على ذِكْرِ ضِرْس الكافر فقط (1)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8759 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن کافر کی داڑھ احد پہاڑ کے برابر ہوگی، اس کی کھال کی موٹائی ستر ہاتھ ہوگی، اس کا بازو بیضاء (پہاڑ) کے برابر ہوگا، اس کی ران ورقان (پہاڑ) کے برابر ہوگی، اور جہنم میں اس کے بیٹھنے کی جگہ اتنی ہوگی جتنا میرے (مدینہ منورہ) اور ربذہ کے درمیان فاصلہ ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، البتہ ان دونوں کا اتفاق صرف کافر کی داڑھ کے ذکر پر ہے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، البتہ ان دونوں کا اتفاق صرف کافر کی داڑھ کے ذکر پر ہے۔
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن سليمان بن الحارث، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا شيبان عن الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال: "إِنَّ غِلَظَ جلدِ الكافر اثنان وأربعون ذراعًا بذراع الجبَّار - وضرسُه مثلُ أُحُد" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. قال الشيخ أبو بكر ﵁: معنى قوله: "بذراع الجبَّار" أي: جبَّارٌ من جبابرة الآدميين ممَّن كان في القرون الأُولى ممَّن كان أعظمَ خَلقًا وأطولَ أعضاءً وذراعًا من إنسِنا (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8760 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. قال الشيخ أبو بكر ﵁: معنى قوله: "بذراع الجبَّار" أي: جبَّارٌ من جبابرة الآدميين ممَّن كان في القرون الأُولى ممَّن كان أعظمَ خَلقًا وأطولَ أعضاءً وذراعًا من إنسِنا (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8760 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کافر کی کھال کی موٹائی جبار (دیوقامت انسان) کے ہاتھ کے حساب سے بیالیس ہاتھ ہوگی، اور اس کی داڑھ احد پہاڑ کی طرح ہوگی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ شیخ ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ ﷺ کے فرمان ”جبار کے ہاتھ کے حساب سے“ کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں کے جابر لوگوں میں سے کوئی ایسا جبار جو پہلی صدیوں میں ہوتا تھا، جس کی جسامت بہت بڑی ہوتی تھی اور اس کے اعضاء اور ہاتھ ہم انسانوں کی نسبت زیادہ لمبے ہوتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ شیخ ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ ﷺ کے فرمان ”جبار کے ہاتھ کے حساب سے“ کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں کے جابر لوگوں میں سے کوئی ایسا جبار جو پہلی صدیوں میں ہوتا تھا، جس کی جسامت بہت بڑی ہوتی تھی اور اس کے اعضاء اور ہاتھ ہم انسانوں کی نسبت زیادہ لمبے ہوتے تھے۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن [سعيد بن] (2) أبي هلال، عن سعيد بن أبي سعيد المَقبُري، أنه سمع أبا هريرة يقول: إِنَّ ضِرسَ الكافر يومَ القيامة مثلُ أحد، ورأسه مثلُ البَيضاء، وفَخِذَه مثلُ وَرِقانَ، وغِلَظَ جلدِه سبعون ذراعًا، وإنَّ مجلسَه في النار كما بينَ المدينةِ والرَّبَذة. قال أبو هريرة: وكان يقال: بطنُه مثلُ بطن إضَمٍ (3). هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه لتوقيفه على أبي هريرة ﵁.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8761 - موقوف
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8761 - موقوف
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ”قیامت کے دن کافر کی داڑھ احد پہاڑ جیسی ہوگی، اس کا سر بیضاء (پہاڑ) جیسا ہوگا، اس کی ران ورقان (پہاڑ) جیسی ہوگی، اس کی کھال کی موٹائی ستر ہاتھ ہوگی، اور جہنم میں اس کے بیٹھنے کی جگہ مدینہ اور ربذہ کے درمیانی فاصلے کے برابر ہوگی۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اور یہ بھی کہا جاتا تھا: ”اس کا پیٹ اضم (وادی) کے برابر ہوگا۔“
اس حدیث کی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر موقوف ہونے کی وجہ سے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر موقوف ہونے کی وجہ سے روایت نہیں کیا۔