المستدرك على الصحيحين
كتاب : الأهوال— ( قیامت کی ) ہولناکیوں کے بارے میں روایات
تَشْرِيحُ آيَةِ ( يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ ) باب: اس آیت کی تشریح کہ "جس دن زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی"
حدیث نمبر: 8914
أخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدمُ بن أبي إياس، حدثنا شُعْبة قال: سمعت أبا إسحاق يقول: سمعت هُبيرةَ بن يَرِيمَ يقول: سمعت عبدَ الله بن مسعود تلا ﴿يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ﴾ [إبراهيم: 48] قال: أرضٌ كالفِضّة بيضاءُ نقيَّةٌ لم يُسفَكْ فيها دمٌ، ولم يُعمَل فيها خطيئةٌ، يُسمِعُهم الداعي ويُنفِذُهم البصرُ، حفاةً عُراةً قيامًا، ثم يُلجِمُهم العَرَقُ (1). وقيل: عن أبي إسحاق عن عمرو بن ميمون عن عبد الله:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8699 - إسناده قويحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ﴾ [سورة إبراهيم: 48] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: وہ زمین چاندی کی طرح سفید اور شفاف ہوگی جس میں کبھی خون نہیں بہایا گیا ہوگا اور نہ ہی اس میں کوئی گناہ کیا گیا ہوگا، پکارنے والے کی آواز سب کو سنائی دے گی اور نگاہ سب تک پہنچ جائے گی، لوگ ننگے پاؤں، برہنہ بدن اور کھڑے ہوں گے، پھر پسینہ انہیں لگام دے دے گا (یعنی منہ تک پہنچ جائے گا)۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) خبر صحيح، عبد الرحمن بن الحسن القاضي - وإن كان فيه ضعف - لم ينفرد بهذا الخبر، ومَن فوقه ثقات. وقد اضطرب فيه أبو إسحاق وهو عمرو بن عبد الله السبيعي - كما بيَّن شعبة في رواية محمد بن جعفر عنه عند أحمد في "العلل" برواية ابنه (4603) والطبري في "تفسيره" 13/ 249، فقد ذكر شعبة: أنَّ أبا إسحاق رواهُ مرةً عن هبيرة بن يَريم عن ابن مسعود، ومرةً عن عمرو بن ميمون عن ابن مسعود، ومرةً عن عمرو بن ميمون من قوله، ومهما يكن من أمر فإنَّ هذا الخبر محفوظ من قول ابن مسعود قد روي هكذا عنه من غير طريق أبي إسحاق كما سيأتي في تخريج الرواية التالية.
درجۂ حدیث: یہ خبر صحیح ہے۔ اگرچہ عبدالرحمن بن حسن القاضی میں کچھ ضعف ہے، لیکن وہ اس خبر میں اکیلے (منفرد) نہیں ہیں، اور ان سے اوپر والے راوی ثقہ ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: ابو اسحاق (عمرو بن عبداللہ السبیعی) اس حدیث میں اضطراب کا شکار ہوئے ہیں، جیسا کہ شعبہ نے (محمد بن جعفر کے واسطے سے) احمد کی "العلل" (4603) اور طبری کی "تفسیر" (13/ 249) میں واضح کیا ہے۔ شعبہ ذکر کرتے ہیں کہ ابو اسحاق نے اسے کبھی ہبیرہ بن یریم عن ابن مسعود سے، کبھی عمرو بن میمون عن ابن مسعود سے، اور کبھی عمرو بن میمون کے اپنے قول کے طور پر روایت کیا۔ بہرحال معاملہ کچھ بھی ہو، یہ خبر حضرت ابن مسعود کے قول (موقوف) کے طور پر "محفوظ" ہے اور ان سے ابو اسحاق کے علاوہ دوسرے طریق سے بھی اسی طرح مروی ہے جیسا کہ اگلی روایت کی تخریج میں آئے گا۔
درجۂ حدیث: یہ خبر صحیح ہے۔ اگرچہ عبدالرحمن بن حسن القاضی میں کچھ ضعف ہے، لیکن وہ اس خبر میں اکیلے (منفرد) نہیں ہیں، اور ان سے اوپر والے راوی ثقہ ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: ابو اسحاق (عمرو بن عبداللہ السبیعی) اس حدیث میں اضطراب کا شکار ہوئے ہیں، جیسا کہ شعبہ نے (محمد بن جعفر کے واسطے سے) احمد کی "العلل" (4603) اور طبری کی "تفسیر" (13/ 249) میں واضح کیا ہے۔ شعبہ ذکر کرتے ہیں کہ ابو اسحاق نے اسے کبھی ہبیرہ بن یریم عن ابن مسعود سے، کبھی عمرو بن میمون عن ابن مسعود سے، اور کبھی عمرو بن میمون کے اپنے قول کے طور پر روایت کیا۔ بہرحال معاملہ کچھ بھی ہو، یہ خبر حضرت ابن مسعود کے قول (موقوف) کے طور پر "محفوظ" ہے اور ان سے ابو اسحاق کے علاوہ دوسرے طریق سے بھی اسی طرح مروی ہے جیسا کہ اگلی روایت کی تخریج میں آئے گا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8914 سے ماخوذ ہے۔