کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: حشر کے میدان میں لائے جانے والے آخری دو افراد قبیلہ مزینہ کے چرواہے ہوں گے
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا عُبيد بن شَريك البزَّار، حدثنا يحيى بن عبد الله بن بُكَير، حدثنا اللَّيث بن سعد، عن عُقَيل بن خالد، عن ابن شِهاب، عن سعيد بن المسيّب، عن أبي هريرة أن رسول الله ﷺ قال: "إِنَّ آخرَ من يُحْشَرُ راعيانِ من مُزَينةَ يريدانِ المدينةَ، يَنعِقانِ بغنمهما، فيَجِدانِها وُحوشًا، حتى إذا بَلَغا ثَنِيَّةَ الوداع خرَّا على وجوهِهما (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8690 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سب سے آخر میں جن کا حشر ہوگا وہ قبیلہ مزینہ کے دو چرواہے ہوں گے جو مدینہ جانے کا ارادہ رکھتے ہوں گے، وہ اپنی بکریوں کو آواز دیں گے لیکن انہیں وہاں (بکریوں کے بجائے) وحشی درندے ملیں گے، یہاں تک کہ جب وہ ثنیۃ الوداع (گھاٹی) پر پہنچیں گے تو اپنے چہروں کے بل گر پڑیں گے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8904
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل عبيد بن شريك» [ترقيم الرساله 8904] [ترقيم الشركة 8795] [ترقيم العلميه 8690]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصر الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرنا إسحاق بن يحيى بن طَلْحة بن عُبيد الله، عن مَعبَد بن خالد قال: دخلتُ المسجدَ فإذا فيه شيخٌ يَتفلَّى، فسلَّمتُ عليه فردَّ عليَّ السلام، وجلستُ إليه فقلت: مَن أنت يا عم؟ فقال: بل مَن أنت يا ابنَ أخي؟ قلت: أنا مَعبَدُ بن خالد فقال: مَرحبًا بك، قد عرفتُ أباك، كان معي بدمشقَ، وإني وأباكَ لأَوَّلُ فارسَينِ وَقَفا بباب (2) عَذْراءَ - مدينة بالشام - فقلت: مَن أنت؟ قال: أنا أبو سَرِيحة الغِفاري، صاحبُ النبي ﷺ، فقلت: حدِّثني عن رسول الله ﷺ، قال: نعم، سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "يُحْشَرُ رَجُلانِ من مُزَينةَ، هما آخرُ الناس يُحشَران، يُقبِلانِ من جبلٍ قد تَسوَّراه حتى يأتِيَا معالمَ الناس، فيجدان الأرضَ وُحوشًا، حتى يأتيَا المدينةَ، فإذا بلغا أدنى المدينةِ قالا: أين الناسُ؟ فلا يَرَيانِ أحدًا، فيقول أحدُهما لصاحبه: الناسُ في دُورهم، فيدخلانِ الدُّورَ فإذا ليس في الدُّور أحدٌ، وإذا على الفُرُش الثعالبُ والسَّنانير، فيقولان: أين الناسُ؟ فيقول أحدُهما الناسُ في المسجد، فيأتيانِ المسجدَ فلا يَجِدانِ أحدًا، فيقولان: أين الناسُ؟ فيقول أحدهما: الناسُ في السُّوق، شَغَلَتهم الأسواقُ، فيخرجان حتى يأتيا الأسواقَ فلا يجدانِ فيها أحدًا، فيَنطلِقان حتى يأتيَا الثَّنِيَّةَ، فإذا عليها مَلَكانِ فيأخذان الملكان (1) بأرجُلِهما فيسحبانِهما إلى الأرض، أرضِ المَحشَر، وهما آخرُ الناس حَشْرًا" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8691 - إسحاق بن يحيى بن طلحة قال أحمد متروك
حافظ طلحہ بابر
معبد بن خالد سے روایت ہے کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو وہاں ایک بزرگ کو دیکھا جو (اپنے کپڑوں سے) جوئیں نکال رہے تھے، میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے سلام کا جواب دیا، میں ان کے پاس بیٹھ گیا اور پوچھا: اے چچا! آپ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: بلکہ اے بھتیجے! تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں معبد بن خالد ہوں، انہوں نے کہا: خوش آمدید، میں تمہارے والد کو جانتا تھا، وہ دمشق میں میرے ساتھ تھے، میں اور تمہارے والد پہلے وہ دو شہسوار تھے جنہوں نے (شام کے شہر) عذراء کے دروازے پر پڑاؤ ڈالا تھا، میں نے پوچھا: آپ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: میں ابو سریحہ غفاری ہوں، جو کہ نبی کریم ﷺ کے صحابی ہیں، میں نے کہا: مجھے رسول اللہ ﷺ کی کوئی حدیث سنائیں، انہوں نے کہا: ہاں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”مزینہ قبیلے کے دو شخص سب سے آخر میں محشور کیے جائیں گے، وہ ایک پہاڑ سے اتر کر آئیں گے یہاں تک کہ انسانی آبادی کے نشانات تک پہنچ جائیں گے تو دیکھیں گے کہ زمین جنگلی جانوروں سے بھری پڑی ہے، یہاں تک کہ وہ مدینہ پہنچیں گے، جب مدینہ کے قریب پہنچیں گے تو کہیں گے: لوگ کہاں گئے؟ لیکن انہیں کوئی نظر نہیں آئے گا، ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے کہے گا: لوگ اپنے گھروں میں ہوں گے، وہ گھروں میں داخل ہوں گے تو وہاں بھی کوئی نہیں ہوگا بلکہ بستروں پر لومڑیاں اور بلیاں بیٹھی ہوں گی، وہ پھر کہیں گے: لوگ کہاں گئے؟ ان میں سے ایک کہے گا: لوگ مسجد میں ہوں گے، وہ مسجد میں آئیں گے تو وہاں بھی کسی کو نہیں پائیں گے، وہ پھر کہیں گے: لوگ کہاں گئے؟ ان میں سے ایک کہے گا: لوگ بازاروں میں ہوں گے، انہیں کاروبار نے مشغول کر رکھا ہوگا، وہ نکل کر بازاروں میں جائیں گے تو وہاں بھی کوئی نہیں ہوگا، وہ چلتے ہوئے گھاٹی (ثنیہ) تک پہنچیں گے تو وہاں دو فرشتے ہوں گے جو ان کے پاؤں سے پکڑ کر انہیں زمینِ محشر کی طرف گھسیٹیں گے، اور وہ حشر کے لیے جمع کیے جانے والے سب سے آخری انسان ہوں گے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8905
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا، إسحاق بن يحيى متروك الحديث وبه أعلَّه الذهبي في "تلخيصه"، وحديثه هذا منكر كما بيَّن ذلك الشيخ أحمد الغماري ﵀ في "المداوي" 1/ 12» [ترقيم الرساله 8905] [ترقيم الشركة 8796] [ترقيم العلميه 8691]