کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: متقیوں کی سواریاں سونے کی ہوں گی جن کی لگامیں زبرجد کی ہوں گی
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا موسى بن إسحاق القاضي، حدثنا مِنجابُ بن الحارث، حدثنا علي بن مُسهِر، عن عبد الرحمن بن إسحاق، عن النُّعمان بن سعد قال: كنا جلوسًا عند علي بن أبي طالب فقرأ: ﴿يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْدًا﴾ [مريم: 85] قال: لا والله ما على أرجلهم يُحشَرون، ولا يُساقُون سَوْقًا، ولكنهم يُؤتون بنُوقٍ من نُوق الجنَّة لم (1) تَنظُرِ الخلائق إلى مثلِها (2)، رِحالُهم الذهبُ وأزِمَّتُها الزَّبَرجَد، فيَقعُدون عليها حتى يَقرَعوا بابَ الجنة (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8688 - ليس بصحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْدًا﴾ [سورة مريم: 85] کی تلاوت کی اور فرمایا: نہیں، اللہ کی قسم! وہ (اہلِ تقویٰ) اپنے پیروں پر چل کر نہیں لائے جائیں گے اور نہ ہی انہیں (جانوروں کی طرح) ہنکایا جائے گا، بلکہ انہیں جنت کی ایسی اونٹنیوں پر لایا جائے گا کہ مخلوق نے ان جیسی اونٹنیاں کبھی نہیں دیکھی ہوں گی، ان کے کجاوے سونے کے اور ان کی لگامیں زبرجد کی ہوں گی، وہ ان پر سوار ہوں گے یہاں تک کہ جنت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8902
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن إسحاق» [ترقيم الرساله 8902] [ترقيم الشركة 8793] [ترقيم العلميه 8688]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ سعيد بن أبي هلال حدَّثه، أنه سمع عثمانَ بن عبد الرحمن القُرَظي يقول: قرأَتْ عائشة قول الله ﷿: ﴿وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَى كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ﴾ [الأنعام: 9]، فقالت: يا رسول الله، واسَوْأَتاه، إِنَّ الرجال والنساء يُحشَرون جميعًا يَنظُر بعضُهم إلى سَوْاةِ بعض؟! فقال رسول الله ﷺ: "لكلِّ امرِئٍ منهم يومَئِذٍ شأنٌ يُغنيه، لا ينظرُ الرجالُ إلى النساءُ، ولا النساء إلى الرجال، شُغِلَ بعضُهم عن بعض" (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8689 - فيه انقطاع
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَى كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ﴾ [سورة الأنعام: 94] کی تلاوت کی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہائے افسوس، کیا مرد اور عورتیں سب ایک ساتھ جمع ہوں گے اور ایک دوسرے کی شرمگاہوں کی طرف دیکھیں گے؟! تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس دن ہر شخص کی ایسی حالت ہوگی جو اسے (دوسروں سے) بے نیاز کر دے گی، نہ مرد عورتوں کی طرف دیکھیں گے اور نہ ہی عورتیں مردوں کی طرف، ہر کوئی اپنی اپنی فکر میں مشغول ہوگا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8903
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف عثمان بن عبد الرحمن القرظي لم نقف له على ترجمة بهذا الاسم، إلَّا أن يكون هو عثمان بن عبد الرحمن الزهري الوقّاصي، فإنه ابن أخت محمد بن كعب القرظي، وهو من طبقة سعيد بن أبي هلال، فلعلَّ سعيدًا ذهل فنسبه إليه، وقد أشار الإمام أحمد ...» [ترقيم الرساله 8903] [ترقيم الشركة 8794] [ترقيم العلميه 8689]