حدیث نمبر: 8850
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد (3) بن عبد الجبار، حدثنا أبو معاوية، عن أبي مالك الأشجعيِّ، عن رِبْعيٍّ، عن حُذَيفة قال: قال رسول الله ﷺ: "يَدرُسُ الإسلام كما يَدرُسُ وَشْيُ الثوب، لا يُدرَى ما صيامٌ ولا صدقةٌ ولا نُسُك، ويُسرَى على كتاب الله ﷿ في ليلةٍ فلا يبقى في الأرض منه آيةٌ، ويبقى طوائفُ من الناس، الشيخُ الكبير والعجوزُ الكبيرة، يقولون: أدرَكْنا آباءَنا على هذه الكلمة: لا إله إلَّا الله، فنحن نقولُها". فقال له صِلةُ: فما تُغْني عنهم لا إله إلَّا الله، لا يَدرُون ما صيامٌ ولا صدقةٌ ولا نُسُك؟! فأعرضَ عنه حذيفةُ (1)، ثم أَقبل عليه في الثالثة فقال: يا صلةُ، تُنجِيهم من النار، تُنجِيهم من النار، تُنجِيهم من النار (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8636 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام اسی طرح پرانا ہو کر مٹ جائے گا جیسے کپڑے کے نقش و نگار مٹ جاتے ہیں، یہاں تک کہ یہ بھی معلوم نہیں رہے گا کہ روزہ، صدقہ اور حج و عمرہ کی قربانی کیا چیز ہے، اور ایک ہی رات میں اللہ عزوجل کی کتاب کو اٹھا لیا جائے گا تو روئے زمین پر اس کی ایک آیت بھی باقی نہیں رہے گی، اور لوگوں کے کچھ گروہ باقی بچ جائیں گے جن میں بوڑھے مرد اور بوڑھی عورتیں ہوں گی جو کہیں گی: ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اس کلمہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ پر پایا تھا، لہٰذا ہم بھی یہی کہتے ہیں۔“ اس پر صِلہ نے ان سے پوچھا: جب وہ روزے، صدقے اور قربانی کے طریقے سے واقف ہی نہ ہوں گے تو یہ کلمہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» ان کے کس کام آئے گا؟ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان سے رخ موڑ لیا، صِلہ نے پھر سوال کیا یہاں تک کہ تیسری مرتبہ پوچھا تو انہوں نے صِلہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اے صِلہ! یہ کلمہ انہیں آگ سے نجات دے گا، یہ انہیں آگ سے بچائے گا، یہ انہیں جہنم کی آگ سے نجات دلائے گا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8850
درجۂ حدیث محدثین: صحيح موقوفًا كما سبق بيانه عند الحديث (8526)
تخریج حدیث «صحيح موقوفًا كما سبق بيانه عند الحديث (8526)، حيث رواه هناك من طريق أبي كريب محمد بن العلاء عن أبي معاوية» [ترقيم الرساله 8850] [ترقيم الشركة 8740] [ترقيم العلميه 8636]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) تحرّف في النسخ الخطية إلى: محمد، والتصويب من "إتحاف المهرة" (4262)، وقد تكررت سلسلة الإسناد هذه عند المصنف في عشرين موضعًا تقريبًا على الصواب، وأحمد بن عبد الجبار: هو العُطاردي.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر ’محمد‘ ہوگیا ہے، جس کی تصحیح "اتحاف المہرۃ" (4262) سے کی گئی ہے۔ مصنف کے ہاں یہ سند تقریباً بیس مقامات پر درست شکل میں آئی ہے۔ احمد بن عبد الجبار سے مراد ’عطاردی‘ ہیں۔
(1) زاد بعد هذا في "التلخيص": فردّد عليه ثلاثًا كل ذلك يعرض عنه.
تفصیلِ روایت: "التلخیص" میں اس کے بعد یہ اضافہ ہے: "پس اس نے ان پر تین بار یہ بات دہرائی، اور ہر بار وہ (نبی ﷺ) اس سے اعراض کرتے رہے۔"
(2) صحيح موقوفًا كما سبق بيانه عند الحديث (8526)، حيث رواه هناك من طريق أبي كريب محمد بن العلاء عن أبي معاوية.
درجۂ حدیث: یہ روایت موقوفاً صحیح ہے جیسا کہ حدیث نمبر (8526) کے تحت بیان ہو چکا ہے، جہاں اسے ابو کریب محمد بن العلاء عن ابی معاویہ کے طریق سے روایت کیا گیا تھا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8850 سے ماخوذ ہے۔