کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: مسیلمہ کذاب کا تذکرہ
أخبرنا أبو سهل أحمد بن محمد بن زياد النَّحْوي ببغداد، حدثنا عبد الكريم بن الهيثم. وأخبرني أبو محمد المُزَني - واللفظ له - حدثنا علي بن محمد بن عيسى؛ قالا: حدثنا أبو اليَمَان، أخبرني شعيب، عن الزُّهْري قال: أخبرني طلحةُ بن عبد الله بن عَوْف، عن أبي بَكْرة أخي زيادٍ لأمِّه. وأخبرني محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعاني بمكة حَرَسَها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبَّاد، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن الزُّهري، عن طلحة بن عبد الله بن عَوف، عن أبي بَكْرة أخي زيادٍ لأمِّه، قال: أكثرَ الناسُ في شأن مُسيلِمةَ الكذّابِ قبل أن يقول فيه رسول الله ﷺ، ثم قامَ رسولُ الله ﷺ فَأَثنى على الله بما هو أهلُه، ثم قال: "أما بعدُ، في شأنِ هذا الرجل، فقد أكثرتُم في شأنه، فإنه كذّابٌ من ثلاثين كذّابًا يخرجون قبلَ الدَّجال، وإنه ليس بلدٌ إِلَّا يَدخُلُه رُعْبُ المسيح إلَّا المدينةَ، على كلِّ نَقْبٍ من نِقَابِها يومَئِذٍ مَلَكَانِ يَذُبَّانِ عنها رعبَ المسيح" (1). قد احتجَّ مسلمٌ بطلحة بن عبد الله بن عَوْف (2). وقد أَعضَلَ معمرٌ وشعيبُ بن أبي حمزة هذا الإسناد عن الزُّهْري، فإنَّ طلحة بن عبد الله لم يَسمَعه من أبي بَكْرة، إنما سمعه من عِيَاض بن مُسافِع عن أبي بكرة، هكذا رواه يونسُ بن يزيد وعُقَيلُ بن خالد عن الزُّهري. أما حديثُ يونس:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ (جو ماں کی طرف سے زیاد کے بھائی ہیں) بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے مسیلمہ کذاب کے معاملے میں رسول اللہ ﷺ کے کچھ فرمانے سے پہلے ہی بہت سی باتیں شروع کر دیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے لائق حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”اما بعد! اس شخص کے معاملے میں، تو تم لوگوں نے اس کے متعلق بہت سی باتیں کی ہیں، یقیناً وہ دجال سے پہلے ظاہر ہونے والے تیس کذابوں میں سے ایک کذاب ہے۔ اور کوئی ایسا شہر نہیں ہوگا جس میں مسیح (دجال) کا رعب و دبدبہ داخل نہ ہو، سوائے مدینہ منورہ کے، کیونکہ اس دن اس کے ہر راستے پر دو فرشتے ہوں گے جو اس سے مسیح کا رعب دور کر رہے ہوں گے۔“
امام مسلم نے طلحہ بن عبداللہ بن عوف سے استدلال کیا ہے۔ اور معمر اور شعیب بن ابی حمزہ نے زہری سے اس سند کو معضل بیان کیا ہے، کیونکہ طلحہ بن عبداللہ نے اسے ابوبکرہ سے نہیں سنا، بلکہ انہوں نے اسے عیاض بن مسافع سے اور انہوں نے ابوبکرہ سے سنا ہے۔ یونس بن یزید اور عقیل بن خالد نے زہری سے اسے اسی طرح روایت کیا ہے۔ بہرحال یونس کی حدیث (آگے آ رہی ہے):
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8838
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذان الإسنادان على ثقة رجالهما منقطعان كما سيبيّن المصنف» [ترقيم الرساله 8838] [ترقيم الشركة 8727]
من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8624 - لم يسمعه طلحة من أبي بكرة"
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8624 - لم يسمعه طلحة من أبي بكرة"
حافظ طلحہ بابر
طلحہ نے اسے ابوبکرہ سے نہیں سنا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8838N
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 8838N] [ترقيم الشركة 8728] [ترقيم العلميه 8624]
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحر بن نَصْر، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني يونس، عن الزُّهري، أنَّ طلحة بن عبد الله بن عوف حدَّثَه عن عِياض بن مُسافِع، عن أبي بَكْرةَ أخي زيادٍ لأمِّه، قال: لما أكثرَ الناسُ في شأن مُسلِمةَ الكذَّاب قبل أن يقولَ رسول الله ﷺ فيه ما قال، قام رسول الله ﷺ فَأَثْنَى على الله بما هو أهلُه، ثم قال: "أما بعدُ، فقد أكثرتُم في شأنِ هذا الرجل، وإنه كذَّابٌ من ثلاثينَ كذابًا يخرجون قبلَ الدَّجال، وإنه ليس بلدٌ إِلَّا سَيَدخلُه رُعْبُ المسيحِ إِلَّا المدينةَ على كل نَقْبٍ من نِقَابِها (1) يومئذٍ مَلَكان يَذُبَّانِ عنها رُعْبَ المسيح" (2). وأما حديث عُقَيل بن خالد:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب لوگوں نے مسیلمہ کذاب کے بارے میں بہت زیادہ تذکرہ کیا اس سے قبل کہ رسول اللہ ﷺ اس کے متعلق اپنا قول بیان فرماتے، تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور اللہ کی ویسی ہی حمد و ثنا کی جو اس کے شایانِ شان ہے، پھر فرمایا: ”اما بعد! تم نے اس شخص کے بارے میں بہت باتیں کی ہیں، بے شک وہ ان تیس کذابوں میں سے ایک ہے جو دجال سے پہلے نکلیں گے، اور کوئی شہر ایسا نہیں ہوگا جہاں مسیح (دجال) کی دہشت داخل نہ ہو سوائے مدینہ کے، اس دن اس کے ہر داخلی راستے پر دو فرشتے ہوں گے جو اس سے مسیح کی دہشت کو دور کر رہے ہوں گے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8839
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين من أجل عياض بن مسافع، فقد انفرد بالرواية عنه أحد التابعين الثقات، وهو طلحة بن عبد الله قاضي المدينة، ولم يوثقه غير ابن حبان، ولا يعرف لعياض بن مسافع غير هذا الحديث، وهو متابع عليه» [ترقيم الرساله 8839] [ترقيم الشركة 8729]
فحدَّثَناه أبو النَّضر الفقيه وأبو الحسن العَنَزي قالا: حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا عبد الله بن صالح المِصري، حدثني الليث، حدثني عُقَيل، عن ابن شِهاب، أخبرني طلحة بن عبد الله بن عوف، أنَّ عِياضَ بن مُسافِع أخبره، أَنَّ أبا بَكْرة أخا زيادٍ لأمِّه أخبره: أنَّ رسول الله ﷺ قام فخَطَبَ فَأَثنى على الله بما هو أهلُه، ثم قال: "أما بعدُ، فقد أكثرتُم في شأنِ مُسيلِمة، وإنه كذَّابٌ من جُمْلة ثلاثينَ كذّابًا يخرجون قبلَ الدَّجال" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد رواه سعدُ بن إبراهيم الزُّهْري عن أبيه عن أبي بَكْرة مختصرًا:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور خطبہ ارشاد فرمایا جس میں اللہ تعالیٰ کی کما حقہ ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”اما بعد! تم نے مسیلمہ کے بارے میں بہت زیادہ باتیں کی ہیں، یقیناً وہ ان تیس کذابوں میں سے ایک ہے جو دجال کے خروج سے پہلے ظاہر ہوں گے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8840
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره كسابقه» [ترقيم الرساله 8840] [ترقيم الشركة 8730]