کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: تم میں سے جو دجال کے خروج کے بارے میں سنے، وہ اس سے دور رہے
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حَنبَل، حدثني أَبي، حدثنا يحيى بن سعيد (1)، حدثنا هشام بن هشام بن حسَّان، حدثني حُميد بن هلال، عن أبي الدَّهْماء، عن عِمران بن حُصين الخُزاعي قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن سَمِعَ منكم بخروج الدَّجّالِ فليَنأَ عنه، فإنَّ الرجل يأتيه فيَحسَبُ أنه مؤمنٌ، فما يزالُ يَتبَعُه مما يَرى من الشُّبُهات" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ولا أعلمُ أحدًا ذكر عن هشام بن حسان في إسناده [أبا الدهماء] (3) غير يحيى بن سعيد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8615 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ولا أعلمُ أحدًا ذكر عن هشام بن حسان في إسناده [أبا الدهماء] (3) غير يحيى بن سعيد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8615 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص دجال کے نکلنے کی خبر سنے وہ اس سے دور رہے، کیونکہ آدمی اس کے پاس جائے گا اور یہ سمجھے گا کہ وہ مومن ہے، لیکن وہ ان شبہات کی وجہ سے جو وہ (دجال) پیدا کرے گا مسلسل اس کی پیروی کرنے لگے گا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور میں نہیں جانتا کہ یحییٰ بن سعید کے علاوہ کسی اور نے ہشام بن حسان کی سند میں ابو الدہماء کا ذکر کیا ہو۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور میں نہیں جانتا کہ یحییٰ بن سعید کے علاوہ کسی اور نے ہشام بن حسان کی سند میں ابو الدہماء کا ذکر کیا ہو۔
فقد أخبرَناه أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا هشام بن حسّان، عن حُميد بن هلال، عن عِمران بن حُصين قال: قال رسول الله ﷺ: "من سمع بالدَّجال فليَنْأَ عنه - يقولها ثلاثًا - فإنَّ الرجل يأتيِه فيَتبَعُه فيَحسَبُ أنه صادقٌ، لِما بُعِثَ به من الشُّبهات" (4).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص دجال کے بارے میں سنے وہ اس سے دور رہے — آپ ﷺ نے یہ تین بار فرمایا — کیونکہ آدمی اس کے پاس جائے گا اور ان شبہات کی وجہ سے جو اس کے ساتھ بھیجے گئے ہوں گے وہ اسے سچا سمجھ کر اس کی پیروی کرنے لگے گا۔“