أخبرنا أحمد بن سَلْمان الفقيه ببغداد، حدثنا أحمد بن زُهير بن حَرْب، حدثنا موسى بن إسماعيل التَّبُوذَكي، حدثنا الصَّعْق بن حَزْن، حدثنا علي بن الحكم البُناني، عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله ﷺ: "الأمراءُ من قُريش، الأمراءُ من قُريش، ما عَمِلوا فيكم بثلاثٍ: ما رَحِموا إذا استُرحِموا، وقَسَطُوا (2) إذا قَسَمُوا، وعَدَلُوا إذا حَكَموا" (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8528 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8528 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حکمران قریش میں سے ہوں گے، حکمران قریش میں سے ہوں گے، جب تک وہ تمہارے درمیان تین کام کرتے رہیں: جب ان سے رحم کی درخواست کی جائے تو وہ رحم کریں، جب تقسیم کریں تو انصاف سے کام لیں، اور جب فیصلہ کریں تو عدل کریں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل، حدثنا عفَّان، حدثنا حمّاد بن زيد، عن مُجالِد بن سعيد، عن الشَّعْبي (4)، عن مسروق قال: كنا جلوسًا ليلةً عند عبد الله يُقرِئُنا القرآنَ، فسأله رجل فقال: يا أبا عبد الرحمن، هل سألتُم رسول الله ﷺ كم يَملِكُ هذه الأُمةَ من خليفة؟ فقال عبد الله: ما سألَني عن هذا أحدٌ منذ قَدِمتُ العراقَ قبلَك، قال: سألناه فقال: "اثنا عشرَ، عِدَّةُ نُقباءِ بني إسرائيل" (1). لا يُستَغنى (2) في هذا الكتاب عن الرواية عن مجالدٍ وأقرانِه ﵏.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8529 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8529 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، مسروق کہتے ہیں کہ ایک رات ہم ان کے پاس بیٹھے تھے اور وہ ہمیں قرآن پڑھا رہے تھے، تو ایک شخص نے ان سے سوال کیا: اے ابوعبدالرحمن! کیا آپ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تھا کہ اس امت کے کتنے خلیفہ ہوں گے؟ سیدنا عبداللہ نے فرمایا: جب سے میں عراق آیا ہوں مجھ سے تمہارے علاوہ کسی نے یہ سوال نہیں کیا، پھر کہا: جی ہاں، ہم نے آپ ﷺ سے پوچھا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بارہ ہوں گے، بنی اسرائیل کے نقیبوں (سرداروں) کی تعداد کے برابر۔“
اس کتاب میں مجالد اور ان جیسے دیگر راویوں کی روایت سے بے نیازی نہیں برتی جا سکتی۔
اس کتاب میں مجالد اور ان جیسے دیگر راویوں کی روایت سے بے نیازی نہیں برتی جا سکتی۔
وأخبرني محمد بن المؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا نُعيم بن حمّاد، حدثنا الوليد ورِشْدِين قالا: حدثنا ابن لَهِيعة، عن أَبي قَبِيل، عن أبي رُومانَ، عن علي بن أبي طالب قال: يَظْهَرُ السُّفياني على الشام ثم يكون بينهم وقعةٌ بقَرقيسِيَا حتى تَشبَعَ طيرُ السماء وسِباعُ الأرض من جِيَفِهم، ثم ينفتقُ عليهم فَتْقٌ من خلفِهم، فتُقبِلُ طائفةٌ منهم حتى يدخلوا أرضَ خُراسانَ [وتُقبِل خيل السُّفياني في طلب أهل خراسان] (3) ويقتلون شِيعةَ آل محمد ﷺ بالكوفة، ثم يخرج أهلُ خراسان في طلب المَهْديِّ (4).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8530 - خبر واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8530 - خبر واه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: سفیانی ملکِ شام پر غالب آ جائے گا، پھر ان کے درمیان قرقیسیا کے مقام پر ایک ایسی جنگ ہوگی کہ آسمان کے پرندے اور زمین کے درندے ان کی لاشوں سے سیر ہو جائیں گے، پھر ان کے پیچھے سے ایک شگاف پڑے گا تو ان کا ایک گروہ آگے بڑھے گا یہاں تک کہ وہ خراسان کی زمین میں داخل ہو جائیں گے (اور سفیانی کے گھڑ سوار اہل خراسان کی تلاش میں نکلیں گے) اور وہ کوفہ میں آلِ محمد ﷺ کے پیروکاروں کو قتل کریں گے، پھر اہل خراسان مہدی کی تلاش میں نکلیں گے۔