حدیث نمبر: 8708
حدثنا أبو جعفر محمد بن خُزَيمة الكَشَّي بنَيسابورَ من كتابه، حدثنا عَبْد بن حُميد الكَشِّي، حدثنا أبو عاصم النَّبيل، حدثنا عَزْرة بن ثابت، حدثنا عَلْباءُ بن أحمرَ، حدثنا أبو زيد الأنصاري قال: صلَّى بنا رسول الله ﷺ الصبحَ، فَخَطَبَنا إلى الظُّهر، ثم نَزَلَ فصلَّى الظهر، ثم خَطَبَنا إلى العصر، فنَزَلَ فصلَّى العصر، ثم صَعِدَ فخَطَبَنا إلى المغرب، وحدَّثَنا بما هو كائنٌ، فأعلمُنا أحفظُنا (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8498 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوزید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی، پھر آپ ﷺ نے ظہر تک ہمیں خطبہ دیا، پھر منبر سے نیچے تشریف لائے اور ظہر کی نماز پڑھائی، پھر آپ ﷺ نے عصر تک خطبہ دیا، پھر نیچے تشریف لائے اور عصر کی نماز پڑھائی، پھر آپ ﷺ دوبارہ منبر پر تشریف لے گئے اور مغرب تک خطبہ دیا، اس دوران آپ ﷺ نے ہمیں ان تمام حالات و واقعات کی خبر دی جو (قیامت تک) ہونے والے ہیں، پس ہم میں سے سب سے زیادہ باخبر وہی ہے جو ہم میں سب سے زیادہ حافظے والا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8708
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8708] [ترقيم الشركة 8601] [ترقيم العلميه 8498]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. أبو عاصم النبيل: هو الضحاك بن مخلد، وأبو زيد الأنصاري: اسمه عمرو بن أخطب.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: راویوں کا تعین: "ابو عاصم نبیل" سے مراد ضحاک بن مخلد ہیں، اور "ابو زید انصاری" کا نام عمرو بن اخطب ہے۔
وأخرجه أحمد 37/ (22888)، ومسلم (2892)، وابن حبان (6638) من طريق أبي عاصم، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (37/ 22888)، مسلم (2892) اور ابن حبان (6638) نے ابو عاصم کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: لہٰذا امام حاکم کا اسے مستدرک قرار دینا ان کا ذہول (بھول) ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8708 سے ماخوذ ہے۔