أخبرني أبو بكر بن أبي نَصْر المزكِّي بمرو، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا عبد الله بن مَسلَمة، حدثنا كَثير بن عبد الله بن عمرو بن عَوف المُزَنِي (1). وحدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق - وله اللفظ - أخبرنا الحَسَن (1) بن علي بن زياد، حدثنا إسماعيل بن أبي أُوَيس، حدثنا كَثير بن عبد الله، عن أبيه، عن جدِّه أنه قال: سمعت رسول الله ﷺ وهو يقول: "لا تذهبُ الدُّنيا. يا عليَّ بن أبي طالب" قال علي: لبَّيكَ يا رسول الله، قال: "اعلم أنكم ستقاتلون بني الأصفر ويقاتلُهم من بعدَكم من المؤمنين، وتخرجُ إليهم رُوقَةُ المؤمنين أهلُ الحِجاز، الذين يجاهدون في سبيل الله، لا تأخذُهم في الله لومةُ لائمٍ حتى يفتحَ اللهُ ﷿ عليهم قُسطَنطينيّة ورُومِيَّةَ بالتسبيح والتكبير، فينهدِمُ حِصنُها، فيصيبون نَيْلًا عظيمًا لم يُصيبوا مثله قطُّ، حتى إنهم يقتسمون بالتُّرْس، ثم يَصرُخُ صارخٌ: يا أهل الإسلام، قد خرج المسيحُ الدَّجَالُ في بلادكم وذَرارِيِّكم، فيَنفَضُّ الناسُ عن المال، فمنهم الآخِذُ ومنهم التاركُ، فالآخذُ نادمٌ والتاركُ نادمٌ، يقولون: مَن هذا الصائحُ؟ فلا يعلمون من هو، فيقولون: ابعَثُوا طَليعةً إلى لُدٍّ، فإن يكن المسيحُ قد خرج فيأتونكم بعِلمِه، فيأتون فينظرون فلا يَرَونَ شيئًا، ويَرَونَ الناسَ ساكتين فيقولون: ما صَرَخَ الصارخُ إِلَّا لنبأٍ، فاعْتَزِموا ثم ارشُدُوا، فيعتزمون أن نخرج بأجمعنا إلى لُدٍّ، فإن يكن بها المسيحُ الدَّجّالُ نُقاتِله حتى يَحكُمَ الله بيننا وبينه، وهو خيرُ الحاكمين، وإن تكن الأخرى فإنَّها بلادُكم وعشائرُكم وعساكرُكم رَجَعَتُم إليها" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8488 - كثير واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8488 - كثير واه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا کثیر بن عبداللہ اپنے والد اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”دنیا ختم نہیں ہوگی۔ اے علی بن ابی طالب!“ علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں حاضر ہوں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”جان لو کہ تم عنقریب بنو اصفر (رومیوں) سے قتال کرو گے اور تمہارے بعد بھی مومنین ان سے قتال کریں گے، ان کے مقابلے کے لیے حجاز کے بہترین مومنین «رُوقَةُ المؤمنين» نکلیں گے جو اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور انہیں اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں ہوگی، یہاں تک کہ اللہ عزوجل ان کے ہاتھوں تسبیح اور تکبیر کے ذریعے قسطنطنیہ اور رومیہ کو فتح فرما دے گا، پس اس کے قلعے منہدم ہو جائیں گے، انہیں وہاں سے ایسا عظیم مال ملے گا کہ اس سے پہلے کبھی نہ ملا ہوگا، یہاں تک کہ وہ ڈھالوں کے ذریعے (بھر بھر کر) مال تقسیم کریں گے، پھر ایک پکارنے والا چیخ کر کہے گا: اے اہل اسلام! مسیح دجال تمہارے شہروں اور تمہاری اولاد میں نکل آیا ہے، تو لوگ مال و متاع کو چھوڑ کر بھاگیں گے، ان میں سے کچھ لینے والے ہوں گے اور کچھ چھوڑنے والے، لینے والا بھی نادم ہوگا اور چھوڑنے والا بھی نادم ہوگا۔ وہ کہیں گے: یہ پکارنے والا کون ہے؟ مگر انہیں پتہ نہیں چلے گا، وہ کہیں گے: «لُدّ» (نامی بستی) کی طرف ایک ہراول دستہ بھیجو، اگر مسیح نکل چکا ہوا تو وہ اس کی خبر لے آئیں گے، وہ وہاں جا کر دیکھیں گے تو انہیں کچھ نظر نہیں آئے گا اور لوگ پرسکون ہوں گے، تو وہ کہیں گے: پکارنے والے نے کسی بڑی خبر کی وجہ سے ہی پکارا ہے، پس تم پختہ ارادہ کرو اور سیدھے راستے پر چلو، چنانچہ وہ عزم کریں گے کہ ہم سب مل کر «لُدّ» کی طرف چلتے ہیں، اگر وہاں مسیح دجال ہوا تو ہم اس سے قتال کریں گے یہاں تک کہ اللہ ہمارے اور اس کے درمیان فیصلہ فرما دے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے، اور اگر دوسری صورت ہوئی تو وہ تمہارے شہر، تمہارے قبیلے اور تمہارے لشکر ہوں گے جن کی طرف تم واپس لوٹ جاؤ گے۔“
أخبرني محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعاني بمكة حَرَسها الله تعالى، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن إسماعيل بن أُميَّة، عن سعيد، عن أبي هريرة، يَروِيه قال: "ويلٌ للعرب من شرٍّ قد اقتَرَب، على رأس السِّتين تصيرُ الأمانةُ غَنيمةً، والصدقةُ غَرامةً، والشهادةُ بالمعرِفة، والحُكْمُ بالهَوَى" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه الزِّيادات.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8489 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه الزِّيادات.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8489 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”عربوں کے لیے اس شر کی وجہ سے ہلاکت ہے جو قریب آ چکا ہے، ساٹھ (ہجری) کے آغاز پر امانت کو غنیمت (لوٹ کا مال) سمجھا جائے گا، صدقہ کو تاوان (جرمانہ) سمجھا جائے گا، گواہی جان پہچان کی بنیاد پر ہوگی اور فیصلہ نفسانی خواہشات کے مطابق کیا جائے گا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے ان اضافوں کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے ان اضافوں کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔