کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: حبشہ کا ایک چھوٹی پنڈلیوں والا شخص کعبہ کا خزانہ نکالے گا
أخبرنا عبد الله بن إسحاق ابن الخُراساني العدل ببغداد، حدثنا أحمد بن حَيّان بن مُلاعِب، حدثنا أبو عامر العقدي، حدثنا زهير بن محمد، عن موسى بن جبير، عن أبي أمامة بن سَهْل بن حُنيف، عن عبد الله بن عمرو (3)، أنَّ النبي ﷺ قال: "اتركوا الحبشة ما تَرَكُوكم، فإنه لا يستخرِجُ كَنْزَ الكعبةِ إِلَّا ذو السُّوَيقَتَينِ من الحبشة" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وقد اتفقا جميعًا على إخراج حديث سفيان، عن زياد (2) بن سعد، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال: "يُخرِّب الكعبة ذو السُّوَيقَتين من الحبشة" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8396 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وقد اتفقا جميعًا على إخراج حديث سفيان، عن زياد (2) بن سعد، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال: "يُخرِّب الكعبة ذو السُّوَيقَتين من الحبشة" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8396 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”حبشہ والوں کو (چھیڑنے سے) گریز کرو جب تک وہ تمہیں چھوڑے رکھیں، کیونکہ کعبہ کا خزانہ حبشہ کا وہی پتلی پنڈلیوں والا شخص ہی نکالے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ البتہ ان دونوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی اس حدیث کی تخریج پر اتفاق کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کعبہ کو حبشہ کا چھوٹی پنڈلیوں والا شخص مسمار کرے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ البتہ ان دونوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی اس حدیث کی تخریج پر اتفاق کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کعبہ کو حبشہ کا چھوٹی پنڈلیوں والا شخص مسمار کرے گا۔“
حدثنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة. وأخبرني أحمد بن جعفر القطيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن، عن شعبة، عن قتادة قال: سمعت عبد الله بن أبي عتبة يحدِّث عن أبي سعد، عن النبي ﷺ قال: "لا تقوم الساعة حتى لا يُحَج البيت" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه. وقد أوقفه أبو داود عن شعبة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8397 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه. وقد أوقفه أبو داود عن شعبة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8397 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک بیت اللہ کا حج کرنا ترک نہ کر دیا جائے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے اپنی کتب میں روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے اپنی کتب میں روایت نہیں کیا۔
أخبرناه أبو زكريا العنبري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا أبو داود. والله أعلم. وقد صح وثَبَتَ عن رسول الله ﷺ: أن البيت يُحَجُّ ويُعتمَرُ بعد خروج يأجوج ومأجوج:
حافظ طلحہ بابر
اس روایت کو امام ابو داود نے شعبہ کے واسطے سے موقوفاً (صحابی کے قول کے طور پر) بھی روایت کیا ہے۔ واللہ اعلم۔
حدثناه أبو زكريا يحيى بن محمد العنبري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا أبان بن يزيد العطّار، عن قتادة، عن عبد الله بن أبي عتبة، عن أبي سعيد الخُدْري، أنَّ النبي ﷺ قال: "ليُحجَّنَّ البيتُ وليُعتمَرَنَّ بعد خروج يأجوج ومأجوج" (2). فإنه يمكنُ أن يُحَجَّ ويُعتمَرَ بعد ذلك ثم ينقطع الحج عنه بمرةٍ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8399 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8399 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یاجوج و ماجوج کے خروج کے بعد بھی بیت اللہ کا حج اور عمرہ ضرور کیا جائے گا۔“
(امام حاکم فرماتے ہیں:) پس یہ ممکن ہے کہ اس (یاجوج و ماجوج کے فتنے) کے بعد بھی کچھ عرصہ حج و عمرہ کا سلسلہ جاری رہے اور پھر اس کے بعد حج مکمل طور پر منقطع ہو جائے۔
(امام حاکم فرماتے ہیں:) پس یہ ممکن ہے کہ اس (یاجوج و ماجوج کے فتنے) کے بعد بھی کچھ عرصہ حج و عمرہ کا سلسلہ جاری رہے اور پھر اس کے بعد حج مکمل طور پر منقطع ہو جائے۔