أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا كَهمَس بن الحسن، عن عبد الله بن شقيق العُقَيلي، عن مِحجَن بن الأدرَع قال: بَعَثَني رسول الله ﷺ لحاجةٍ ثم عارَضَني في بعض طرق المدينة، ثم صَعَّدَ على أُحدٍ وصَعَدتُ معه، فأقبل بوجهه نحو المدينة فقال لها قولًا، ثم قال: "وَيلُ أمِّكِ. أو وَيحُ أمِّها - قريةً يَدَعُها أهلُها أَيْنعَ ما تكون، يأكلها عافية (1) الطيرِ والسِّباع - يأكل ثمرها - فلا يدخلُها الدَّجالُ إن شاء الله، كلما أراد دخولها تلقاه بكل نَقْبٍ من نقابِها مَلَكٌ مُصلِتٌ يَمنعُه عنها" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8315 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8315 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے کسی کام سے بھیجا، پھر آپ ﷺ مجھے مدینہ کے کسی راستے میں ملے، پھر آپ ﷺ احد (پہاڑ) پر چڑھے اور میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ چڑھا، تو آپ ﷺ نے اپنا رخ مدینہ کی طرف کیا اور اس (شہر) کے بارے میں کچھ ارشاد فرمایا، پھر فرمایا: ”تیری ماں ہلاک ہو (یا اس کی ماں ہلاک ہو) - یہ ایسی بستی ہے کہ اس کے رہنے والے اسے اس وقت (ویران) چھوڑ دیں گے جب وہ اپنی پوری شادابی اور پھلوں کے پکنے کے عروج پر ہوگی، پرندے اور درندے اس کے پھل کھائیں گے - اور اس میں دجال داخل نہیں ہو سکے گا، ان شاء اللہ، وہ جب بھی اس میں داخل ہونے کا ارادہ کرے گا تو اس کے ہر راستے پر ننگی تلوار لیے ہوئے ایک فرشتہ اس کا سامنا کرے گا جو اسے اس سے روک دے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو سهل أحمد بن محمد النَّحْوي ببغداد، حدثنا أحمد بن زياد بن مهران، حدثنا شاذان الأسود بن عامر، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن عَزْرة، عن الحسن العُرَني، عن يحيى بن الجزار، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن أبي بن كعب أنه قال في هذه الآية: ﴿وَلَنُذِيقَنَّهُم مِن الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ﴾ [السجدة:21] قال: مصيباتُ الدنيا: الرُّومُ، والبَطْشة، والدخان؛ قال: ثم انقطع شيئًا فقال: هو الدجال (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. سألت أبا عليّ الحافظ عن عَزّرة هذا، فقال: عَزّرة بن يحيى، وقد روى شعبةُ عن قتادة عن عَزّرة بن تميم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8316 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. سألت أبا عليّ الحافظ عن عَزّرة هذا، فقال: عَزّرة بن يحيى، وقد روى شعبةُ عن قتادة عن عَزّرة بن تميم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8316 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَنُذِيقَنَّهُم مِن الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ﴾ [سورة السجدة: 21] کے متعلق مروی ہے، انہوں نے کہا: (عذابِ ادنیٰ سے مراد) دنیا کی مصیبتیں ہیں: اہل روم (کے ساتھ جنگ)، سخت پکڑ (بَطْشہ) اور دھواں؛ (راوی نے) کہا: پھر وہ تھوڑی دیر خاموش رہے اور فرمایا: وہ (عذابِ اکبر) دجال ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ میں نے ابوعلی الحافظ سے اس (سند میں موجود) «عزرة» کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ «عزرة بن يحيى» ہیں، جبکہ شعبہ نے قتادہ سے، انہوں نے «عزرة بن تميم» سے روایت کی ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ میں نے ابوعلی الحافظ سے اس (سند میں موجود) «عزرة» کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ «عزرة بن يحيى» ہیں، جبکہ شعبہ نے قتادہ سے، انہوں نے «عزرة بن تميم» سے روایت کی ہے۔