حدیث نمبر: 8498
حَدَّثَنَا أبو بكر أحمد بن كامل بن خلف القاضي ببغداد، حَدَّثَنَا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل السُّلمي، حَدَّثَنَا سليمان بن عبد الرحمن (1) الدِّمشقي، حَدَّثَنَا الوليد بن مسلم، حَدَّثَنَا يزيد بن سعيد بن ذي عَصْوان، عن يزيد بن عطاء، عن معاذ بن سعد السَّكْسَكي، عن جُنادة بن أبي أُميّة، عن عُبادة بن الصّامت قال: بينما نحن مع رسول الله ﷺ وقوفٌ إذ أقبلَ رجل فقال: يا رسولَ الله، ما مُدَّهُ رَخاءِ أمّتك؟ قال: فسكتَ عنه رسولُ الله ﷺ حتَّى سأله ثلاثَ مرات، ثم وَلَّى الرَّجلُ، فقال رسول الله ﷺ: "عليّ بالرجل" فنُوديَ، فأقبل الرجل، فقال له رسول الله ﷺ: "لقد سألتَني عن شيءٍ ما سألَني عنه أحدٌ من أمَّتي، رَخَاءُ أمَّتي مئة سنة، مدَّةُ رَخاءِ أُمَّتي مئةُ سنة، مدَّةُ رخاءِ أمَّتي مئةُ سنة"، قال: فقال: يا رسول الله، فهل لتلك من أَمَارةٍ أو آيةٍ أو علامة؟ قال: "نَعَم، القَذْفُ والخَسْفُ والرَّجُفُ، وإرسالُ الشياطينِ المُلجَمةِ عن الناس" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8293 - إسناده مظلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھڑے تھے کہ ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کی امت کی خوشحالی کی مدت کتنی ہے؟ رسول اللہ ﷺ خاموش رہے یہاں تک کہ اس نے تین بار سوال کیا، پھر وہ شخص پیٹھ پھیر کر جانے لگا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس شخص کو میرے پاس لاؤ“، اسے پکارا گیا تو وہ واپس آیا، رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”تم نے مجھ سے ایسی چیز کے بارے میں پوچھا ہے جو میری امت میں سے کسی نے مجھ سے نہیں پوچھی، میری امت کی خوشحالی کی مدت سو سال ہے، میری امت کی خوشحالی کی مدت سو سال ہے، میری امت کی خوشحالی کی مدت سو سال ہے“، اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اس کی کوئی نشانی یا علامت ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، پتھروں کی بارش «القَذْفُ»، زمین میں دھنسنا «الخَسْفُ»، زلزلے «الرَّجُفُ» اور لوگوں میں لگام دیے گئے شیاطین کا چھوڑا جانا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8498
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لجهالة معاذ بن سعد السكسكي
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لجهالة معاذ بن سعد السكسكي، فقد انفرد بالرواية عنه يزيد بن عطاء أبو عطاء السكسكي، ويزيد هذا ليس بذاك المعروف أيضًا، فقد روى عنه اثنان وذكره ابن حبان في "ثقاته" كما ذكر فيه معاذًا السكسكي أيضًا، ويزيد بن سعيد بن ذي عصوان ذكره ابن حبان في الثقات أيضًا وقال: ربما أخطأ» [ترقيم الرساله 8498] [ترقيم الشركة 8395] [ترقيم العلميه 8293]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في (ز) و (ب) إلى: عبد الله، والتصويب من (ك) و (م).
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں یہ نام تحریف ہو کر "عبد اللہ" لکھ دیا گیا ہے، جبکہ درستگی نسخہ (ک) اور (م) سے کی گئی ہے۔
(2) إسناده ضعيف لجهالة معاذ بن سعد السكسكي، فقد انفرد بالرواية عنه يزيد بن عطاء أبو عطاء السكسكي، ويزيد هذا ليس بذاك المعروف أيضًا، فقد روى عنه اثنان وذكره ابن حبان في "ثقاته" كما ذكر فيه معاذًا السكسكي أيضًا، ويزيد بن سعيد بن ذي عصوان ذكره ابن حبان في الثقات أيضًا وقال: ربما أخطأ. وتعقب الذهبي في تلخيص المستدرك" تصحيح الحاكم للإسناد وقال: إسناده مظلم.
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے کیونکہ راوی "معاذ بن سعد السکسکی" مجہول ہیں۔ فنی نکتہ / علّت: معاذ سے روایت کرنے میں "یزید بن عطاء ابو عطاء السکسکی" منفرد ہیں، اور یہ یزید بھی کوئی معروف راوی نہیں ہیں؛ ان سے صرف دو لوگوں نے روایت لی ہے۔ ابن حبان نے انہیں اپنی "ثقات" میں ذکر کیا ہے جیسا کہ معاذ السکسکی کو بھی ذکر کیا۔ نیز "یزید بن سعید بن ذی عصوان" کو بھی ابن حبان نے ثقات میں ذکر کیا اور فرمایا: "یہ بسا اوقات غلطی کر جاتے ہیں۔" امام ذہبی نے "تلخیص المستدرک" میں حاکم کی تصحیح کا تعاقب کیا ہے اور فرمایا: "اس کی سند تاریک (انتہائی ضعیف) ہے۔"
وأخرجه أحمد 37 / (22770) من طريق إسماعيل بن عياش، عن يزيد بن سعيد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (37 / 22770) میں اسماعیل بن عیاش کے طریق سے، یزید بن سعید سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8498 سے ماخوذ ہے۔