کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: ڈسے ہوئے (سانپ یا بچھو وغیرہ) کا دم کے ذریعے علاج
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيْباني، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى الذُّهْلي، حَدَّثَنَا مسدَّد، حَدَّثَنَا عبد الواحد بن زياد، حدثني عثمان بن حَكِيم، حدثتني جدَّتي الرَّبابُ قالت: سمعتُ سهلَ بن حُنَيف يقول: مَرَرْنا بِسَيْل، فدخلتُ فاغتسلتُ فيه، فخرجتُ محمومًا، فنُمِيَ ذلك إلى رسول الله ﷺ، فقال: "مُرُوا أبا ثابتٍ يَتعوَّذ" قال: فقلت: يا سيدي، والرُّقَى صالحةٌ؟ فقال: "لا رُقَى إِلَّا فِي نَفْسٍ أو حُمَة أو لَدْغة" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8270 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہمارا گزر ایک برساتی نالے سے ہوا، میں اس میں داخل ہوا اور غسل کیا، جب باہر نکلا تو مجھے بخار ہو گیا، یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابو ثابت (سہل بن حنیف) کو حکم دو کہ وہ دم کریں،“ میں نے عرض کی: اے میرے آقا! کیا دم کرنا فائدہ مند ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”دم کرنا صرف نظرِ بد، زہریلے اثر یا کسی (زہریلے جانور) کے ڈنک مارنے کی صورت میں ہی ہے (یعنی ان میں زیادہ موثر ہے)۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الرقى والتمائم / حدیث: 8475
درجۂ حدیث محدثین: إسناده محتم
تخریج حدیث «إسناده محتمل للتحسين كما سلف بيانه برقم (5838)» [ترقيم الرساله 8475] [ترقيم الشركة 8372] [ترقيم العلميه 8270]
حَدَّثَنَا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشْر بن موسى، حَدَّثَنَا محمد بن سعيد الأصبهاني، أخبرنا شَريك، عن العبَّاس بن ذَرِيح، عن عامر، عن أنس رَفَعَه؛ قال: "لا رُقْية إِلَّا مَن عَينٍ أو حُمَةٍ أو دمٍ، يَرْقَأُ (2) " (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8271 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دم (رقیہ) کرنا صرف نظرِ بد، زہریلے اثر (ڈنک) یا (زخم کے) نہ رکنے والے خون کے لیے ہے (یعنی ان میں زیادہ مفید ہے)۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الرقى والتمائم / حدیث: 8476
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح د
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قوله: "أو دم يرقأ" فقد انفرد به في حديث عامر الشعبي شَريكٌ» [ترقيم الرساله 8476] [ترقيم الشركة 8373] [ترقيم العلميه 8271]