المستدرك على الصحيحين
كتاب الرقى والتمائم— دم اور تعویذات کے احکام
عِلَاجُ اللَّدْغَةِ بِالرُّقَى باب: ڈسے ہوئے (سانپ یا بچھو وغیرہ) کا دم کے ذریعے علاج
حدیث نمبر: 8475
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيْباني، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى الذُّهْلي، حَدَّثَنَا مسدَّد، حَدَّثَنَا عبد الواحد بن زياد، حدثني عثمان بن حَكِيم، حدثتني جدَّتي الرَّبابُ قالت: سمعتُ سهلَ بن حُنَيف يقول: مَرَرْنا بِسَيْل، فدخلتُ فاغتسلتُ فيه، فخرجتُ محمومًا، فنُمِيَ ذلك إلى رسول الله ﷺ، فقال: "مُرُوا أبا ثابتٍ يَتعوَّذ" قال: فقلت: يا سيدي، والرُّقَى صالحةٌ؟ فقال: "لا رُقَى إِلَّا فِي نَفْسٍ أو حُمَة أو لَدْغة" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8270 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہمارا گزر ایک برساتی نالے سے ہوا، میں اس میں داخل ہوا اور غسل کیا، جب باہر نکلا تو مجھے بخار ہو گیا، یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابو ثابت (سہل بن حنیف) کو حکم دو کہ وہ دم کریں،“ میں نے عرض کی: اے میرے آقا! کیا دم کرنا فائدہ مند ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”دم کرنا صرف نظرِ بد، زہریلے اثر یا کسی (زہریلے جانور) کے ڈنک مارنے کی صورت میں ہی ہے (یعنی ان میں زیادہ موثر ہے)۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده محتمل للتحسين كما سلف بيانه برقم (5838).
درجۂ حدیث: اس کی سند تحسین کا احتمال رکھتی ہے جیسا کہ نمبر (5838) پر بیان گزر چکا۔
وأخرجه أبو داود (3888) عن مسدَّد، بهذا الإسناد.
متابعات و شواہد: اسے ابو داؤد (3888) نے مسدد سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند تحسین کا احتمال رکھتی ہے جیسا کہ نمبر (5838) پر بیان گزر چکا۔
وأخرجه أبو داود (3888) عن مسدَّد، بهذا الإسناد.
متابعات و شواہد: اسے ابو داؤد (3888) نے مسدد سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8475 سے ماخوذ ہے۔