أخبرنا عبد الله بن جعفر الفارسي، حَدَّثَنَا يعقوب بن سفيان، حَدَّثَنَا إسحاق بن محمد الفَرْوي، حَدَّثَنَا إسماعيل بن جعفر، عن عُمَارة بن غَزِيّة، عن عاصم بن عمر بن قَتادة بن النُّعمان، عن محمود بن لَبيد، عن قَتَادة بن النعمان، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "إذا أحبَّ الله عبدًا حَمَاهُ الدنيا كما يَظَلُّ أحدُكم يَحْمِي سَقِيمَه الماءَ" (5).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے دنیا (کی آلودگیوں) سے اس طرح بچاتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے بیمار کو پانی سے بچاتا ہے (تاکہ وہ اسے نقصان نہ پہنچائے)۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أحمد بن يعقوب الثقفي، حَدَّثَنَا يوسف بن يعقوب القاضي، حَدَّثَنَا محمد بن أبي بكر المُقَدَّمي، حَدَّثَنَا محمد بن مُسلم، عن يحيى بن أيوب، عن هشام بن عروة (1)، عن أبيه، عن عائشة قالت: مَرِضتُ فَحَمَانِي أَهلي كلَّ شيء حتَّى الماءَ، فعَطِشتُ ليلةً وليس عندي أحدٌ، فدَنَوتُ من قِرْبةٍ معلَّقة فشربتُ منها شَربةً، وقمتُ وأنا صحيحةٌ، فجعلتُ أعرِفُ صِحّةَ تلك الشَّربةِ في جسدي. قال: وكانت عائشة تقول: لا تَحمُوا المريضَ شيئًا (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8251 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8251 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں بیمار ہوئی تو میرے گھر والوں نے مجھے ہر چیز سے پرہیز کروایا یہاں تک کہ پانی سے بھی، ایک رات مجھے سخت پیاس لگی اور میرے پاس کوئی موجود نہ تھا، میں ایک لٹکی ہوئی مشک کے قریب ہوئی اور اس سے ایک گھونٹ پانی پی لیا، میں صبح اٹھی تو بالکل تندرست تھی اور میں اپنے جسم میں اس ایک گھونٹ کی برکت محسوس کر رہی تھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمایا کرتی تھیں: ”مریض کو کسی چیز سے (سختی کے ساتھ) پرہیز نہ کرواؤ۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔