المستدرك على الصحيحين
كتاب الطب— طب کا بیان
لَا تَحْمُوا الْمَرِيضَ شَيْئًا باب: بیمار کو زبردستی کسی چیز سے پرہیز نہ کرواؤ
حدیث نمبر: 8456
أخبرني أحمد بن يعقوب الثقفي، حَدَّثَنَا يوسف بن يعقوب القاضي، حَدَّثَنَا محمد بن أبي بكر المُقَدَّمي، حَدَّثَنَا محمد بن مُسلم، عن يحيى بن أيوب، عن هشام بن عروة (1)، عن أبيه، عن عائشة قالت: مَرِضتُ فَحَمَانِي أَهلي كلَّ شيء حتَّى الماءَ، فعَطِشتُ ليلةً وليس عندي أحدٌ، فدَنَوتُ من قِرْبةٍ معلَّقة فشربتُ منها شَربةً، وقمتُ وأنا صحيحةٌ، فجعلتُ أعرِفُ صِحّةَ تلك الشَّربةِ في جسدي. قال: وكانت عائشة تقول: لا تَحمُوا المريضَ شيئًا (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8251 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں بیمار ہوئی تو میرے گھر والوں نے مجھے ہر چیز سے پرہیز کروایا یہاں تک کہ پانی سے بھی، ایک رات مجھے سخت پیاس لگی اور میرے پاس کوئی موجود نہ تھا، میں ایک لٹکی ہوئی مشک کے قریب ہوئی اور اس سے ایک گھونٹ پانی پی لیا، میں صبح اٹھی تو بالکل تندرست تھی اور میں اپنے جسم میں اس ایک گھونٹ کی برکت محسوس کر رہی تھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمایا کرتی تھیں: ”مریض کو کسی چیز سے (سختی کے ساتھ) پرہیز نہ کرواؤ۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) من قوله: "عن عاصم بن عمر" في الإسناد السابق إلى هنا سقط من (ب).
نوٹ / توضیح: پچھلی سند میں "عن عاصم بن عمر" کے الفاظ سے لے کر یہاں تک کا حصہ نسخہ (ب) سے ساقط ہے۔
(2) إسناده حسن إن شاء الله من أجل محمد بن مسلم - وهو مَديني قدم البصرة - ومن أجل يحيى بن أيوب: وهو الغافقي المصري.
درجۂ حدیث: ان شاء اللہ اس کی سند "حسن" ہے، محمد بن مسلم (جو مدینی ہیں اور بصرہ آئے تھے) اور یحییٰ بن ایوب (جو غافقی مصری ہیں) کی وجہ سے۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (8795)، وفي "الآداب" (876) من طريق الحسن بن محمد بن إسحاق، عن يوسف بن يعقوب القاضي، بهذا الإسناد.
متابعات و شواہد: اسے بیہقی نے "شعب الإیمان" (8795) اور "الآداب" (876) میں حسن بن محمد بن اسحاق کے واسطے سے یوسف بن یعقوب القاضی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
نوٹ / توضیح: پچھلی سند میں "عن عاصم بن عمر" کے الفاظ سے لے کر یہاں تک کا حصہ نسخہ (ب) سے ساقط ہے۔
(2) إسناده حسن إن شاء الله من أجل محمد بن مسلم - وهو مَديني قدم البصرة - ومن أجل يحيى بن أيوب: وهو الغافقي المصري.
درجۂ حدیث: ان شاء اللہ اس کی سند "حسن" ہے، محمد بن مسلم (جو مدینی ہیں اور بصرہ آئے تھے) اور یحییٰ بن ایوب (جو غافقی مصری ہیں) کی وجہ سے۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (8795)، وفي "الآداب" (876) من طريق الحسن بن محمد بن إسحاق، عن يوسف بن يعقوب القاضي، بهذا الإسناد.
متابعات و شواہد: اسے بیہقی نے "شعب الإیمان" (8795) اور "الآداب" (876) میں حسن بن محمد بن اسحاق کے واسطے سے یوسف بن یعقوب القاضی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8456 سے ماخوذ ہے۔