کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: برنی تمہاری بہترین کھجور ہے، اس میں کوئی بیماری نہیں
حَدَّثَنَا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا الحسين بن محمد بن زياد، حَدَّثَنَا محمد بن إسماعيل الجُعْفيّ، حَدَّثَنَا قيس بن حفص الدَّارمي، حَدَّثَنَا طالب بن حُجَيْر، حدثني هُود (4) بن عبد الله، عن جدِه مَزِيدةَ قال: لما قَدِمْنا على النَّبِيّ ﷺ أَخرجوا إلى النَّبِيّ ﷺ تمرًا من تَمَراتِهم، فجعلوا يأكلونه، فسمَّى تلك التمراتِ بأسمائِهم، فقالوا: ما نحن بأعلمَ يا رسول الله بأسمائِها (5) منك، ثم قال لرجُلٍ: "أطْعِمْنا من بقيّة المقربين (6) "فقال النَّبِيّ ﷺ: "هذا البَرْني، وهو خيرُ تُمُورِكم، هو دواءٌ لا داءَ فيه" (7).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8243 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8243 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا مزیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب ہم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو لوگوں نے آپ ﷺ کے سامنے اپنی کھجوروں میں سے کچھ کھجوریں پیش کیں، سب مل کر اسے کھانے لگے تو آپ ﷺ ان کھجوروں کو ان کے ناموں سے پکارنے لگے، صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم بھی ان کے ناموں کو آپ سے زیادہ نہیں جانتے، پھر آپ ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا: ”ہمیں بقیہ مقربین میں سے کھلاؤ“، پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہ برنی (کھجور) ہے اور یہ تمہاری کھجوروں میں سب سے بہترین ہے، یہ ایسی دوا ہے جس میں کوئی بیماری نہیں۔“
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب وعلي بن عبد الله العطار ببغداد، قالا: حَدَّثَنَا العباس بن محمد الدوري، حَدَّثَنَا يونس بن محمد المُؤدِّب، حَدَّثَنَا فُليح بن سليمان، عن أيوب بن عبد الرحمن بن عبد الله بن أبي صَعْصَعة، عن يعقوب بن أبي يعقوب، عن أُمِّ المُنذر العدوية قالت: دخل علي رسول الله ﷺ ومعه عليٌّ وهو ناقِهٌ، قالت: ولنا دوالي معلَّقة، قالت: فقام رسول الله ﷺ فأكل، وقام علي فأكل، فقال النَّبِيّ ﷺ: "مهلًا يا عليُّ، فإنك ناقِهٌ" قالت: فجلس علي وأكل منها النَّبِيّ ﷺ، ثم صنعتُ لهم سلقًا وشعيرًا، فقال النَّبِيّ ﷺ: "من هذا أَصِبِ الآنَ يا علي" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8244 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8244 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ام منذر عدویہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور ان کے ہمراہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی تھے جو کہ ابھی بیماری سے اٹھے ہی تھے (اور ناتواں تھے)، وہ کہتی ہیں کہ ہمارے پاس لٹکے ہوئے کھجور کے خوشے موجود تھے، رسول اللہ ﷺ نے ان میں سے تناول فرمانا شروع کیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی کھانے لگے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے علی! رک جاؤ، تم ابھی کمزوری کی حالت میں ہو،“ وہ کہتی ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ رک گئے جبکہ نبی کریم ﷺ اس میں سے کھاتے رہے، پھر میں نے ان کے لیے چقندر اور جو تیار کیے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے علی! اب اس میں سے کھاؤ۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔