المستدرك على الصحيحين
كتاب الطب— طب کا بیان
الْبَرْنِيُّ خَيْرُ تُمُورِكُمْ لَا دَاءَ فِيهِ باب: برنی تمہاری بہترین کھجور ہے، اس میں کوئی بیماری نہیں
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب وعلي بن عبد الله العطار ببغداد، قالا: حَدَّثَنَا العباس بن محمد الدوري، حَدَّثَنَا يونس بن محمد المُؤدِّب، حَدَّثَنَا فُليح بن سليمان، عن أيوب بن عبد الرحمن بن عبد الله بن أبي صَعْصَعة، عن يعقوب بن أبي يعقوب، عن أُمِّ المُنذر العدوية قالت: دخل علي رسول الله ﷺ ومعه عليٌّ وهو ناقِهٌ، قالت: ولنا دوالي معلَّقة، قالت: فقام رسول الله ﷺ فأكل، وقام علي فأكل، فقال النَّبِيّ ﷺ: "مهلًا يا عليُّ، فإنك ناقِهٌ" قالت: فجلس علي وأكل منها النَّبِيّ ﷺ، ثم صنعتُ لهم سلقًا وشعيرًا، فقال النَّبِيّ ﷺ: "من هذا أَصِبِ الآنَ يا علي" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8244 - صحيحام منذر عدویہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور ان کے ہمراہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی تھے جو کہ ابھی بیماری سے اٹھے ہی تھے (اور ناتواں تھے)، وہ کہتی ہیں کہ ہمارے پاس لٹکے ہوئے کھجور کے خوشے موجود تھے، رسول اللہ ﷺ نے ان میں سے تناول فرمانا شروع کیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی کھانے لگے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے علی! رک جاؤ، تم ابھی کمزوری کی حالت میں ہو،“ وہ کہتی ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ رک گئے جبکہ نبی کریم ﷺ اس میں سے کھاتے رہے، پھر میں نے ان کے لیے چقندر اور جو تیار کیے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے علی! اب اس میں سے کھاؤ۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے جیسا کہ نمبر (7640) پر بیان گزر چکا ہے۔
متابعات و شواہد: اسے ترمذی (2037) نے عباس الدوری سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
نوٹ / توضیح: مگر انہوں نے اس میں کہا: فلیح عن عثمان بن عبدالرحمٰن!
وأخرجه أحمد 44/ (27052) عن يونس بن محمد، وابن ماجه (3442) عن ابن أبي شيبة، عن يونس بن محمد، به. وقالا فيه: فليح عن أيوب بن عبد الرحمن.
متابعات و شواہد: اسے احمد 44/ (27052) نے یونس بن محمد سے، اور ابن ماجہ (3442) نے ابن ابی شیبہ عن یونس بن محمد سے روایت کیا ہے۔
نوٹ / توضیح: اور ان دونوں نے کہا: فلیح عن ایوب بن عبدالرحمٰن۔