کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: ایک ایسے چور کا قصہ جسے پانچویں مرتبہ چوری کرنے پر قتل کر دیا گیا
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدَّثنا إسحاق بن الحسن بن الحَرْبي، حدَّثنا عفان بن مسلم، حدَّثنا حماد بن سَلَمة، حدَّثنا يوسف بن سعد، عن الحارث بن حاطِبٍ: أنَّ رجلًا سَرَقَ على عهدِ رسول الله ﷺ، فأُتِيَ به النبيُّ ﷺ فقال: "اقتُلُوه"، فقالوا: إنما سَرَق، قال: "فاقطَعُوه"، ثم سَرَق أيضًا، فقُطِعَ، ثم سَرَق على عهد أبي بكر فقُطِع، ثم سَرَق فقُطِع (2)، حتى قُطعت قوائمُه، ثم سَرَق الخامسة، فقال أبو بكر: كان رسولُ الله ﷺ أعلمَ بهذا حين أمرَ بقتلِه، اذهبوا به فاقتُلُوه، فدُفِع إلى فِتْيَةٍ من قريش فيهم عبدُ الله بن الزُّبير، فقال عبد الله بن الزُّبير: أَمِّروني عليكم، فأَمَّروه، فكان إذا ضَرَبه ضَرَبُوه حتى قَتلُوه (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8153 - بل منكر
حافظ طلحہ بابر
حارث بن حاطب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں ایک شخص نے چوری کی، اسے نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو“، صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس نے تو محض چوری کی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اچھا، اس کا ہاتھ کاٹ دو“، پھر اس نے دوبارہ چوری کی تو اس کا ہاتھ کاٹا گیا، پھر اس نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں چوری کی تو (پاؤں) کاٹا گیا، پھر چوری کی تو (دوسرا پاؤں) کاٹا گیا، یہاں تک کہ اس کے چاروں ہاتھ پاؤں کاٹ دیے گئے، پھر اس نے پانچویں مرتبہ چوری کی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ اس کے بارے میں زیادہ علم رکھتے تھے جب آپ نے اس کے قتل کا حکم دیا تھا، اسے لے جاؤ اور قتل کر دو“، چنانچہ اسے قریش کے چند نوجوانوں کے حوالے کر دیا گیا جن میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم مجھے اپنا امیر بنا لو، انہوں نے انہیں امیر بنا لیا، پھر جب وہ اسے ضرب لگاتے تو باقی سب بھی مارتے یہاں تک کہ انہوں نے اسے قتل کر دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8352
درجۂ حدیث محدثین: خبر منكر كما قال الذهبي في "السير" 3/ 366
تخریج حدیث «خبر منكر كما قال الذهبي في "السير" 3/ 366، وفي "تلخيص المستدرك"، والظاهر أنَّ النكارة من جهة يوسف بن سعد، فهو مختلف فيه، فقد اختلف حماد بن سلمة وخالد الحذاء في اسمه، فسماه حمادٌ يوسفَ بن سعد، وسماه خالدٌ يوسف بن يعقوب، قال الذهبي في ترجمة يوسف بن سعد من ...» [ترقيم الرساله 8352] [ترقيم الشركة 8253] [ترقيم العلميه 8153]
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدَّثنا أبو محمد فَهْد بن سليمان بمصر، حدَّثنا موسى بن داود الضَّبِّي، حدَّثنا سفيان بن سعيد الثَّوري، عن عمرو بن دينار، عن مجاهدٍ، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ: "ليس على العبدِ الآبقِ إذا سَرَقَ قطعٌ، ولا على الذِّمِّي" (1).
هذا حديث إسناده صحيح على شرط الشيخين، وقد تفرَّد بسنده موسى بن داود، وهو أحد الثِّقات، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8154 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بھاگے ہوئے غلام پر جب وہ چوری کرے تو ہاتھ کاٹنا نہیں ہے، اور نہ ہی ذمی (غلام) پر۔“
اس حدیث کی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اور اس سند کے ساتھ موسیٰ بن داود منفرد ہیں جو کہ ثقات میں سے ہیں، اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8353
درجۂ حدیث محدثین: صحيح موقوفًا
تخریج حدیث «صحيح موقوفًا، ضعيف مرفوعًا، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، وفهد بن سليمان» [ترقيم الرساله 8353] [ترقيم الشركة 8254] [ترقيم العلميه 8154]