کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جب اللہ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے گناہ کی سزا دنیا ہی میں دے دیتا ہے
حدَّثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدَّثنا الحسين بن الفضل البَجَلي، حدَّثنا عفان بن مسلم، حدَّثنا حماد بن سَلَمة، عن يونس بن عُبيد، عن الحسن، عن عبد الله بن مُغفَّل: أنَّ امرأةً كانت بَغيًّا في الجاهلية مرَّ بها رجلٌ فَبَسَطَ يده إليها ولاعَبَها، فقالت: مَهُ، إِنَّ الله تعالى ذهب بالشِّرك وجاءَ بالإسلام، فتركها وولَّى، فجعل يلتفتُ يَنظُرُ إليها حتى أصابَ وجهُه الحائط، قال: فأتى النبيَّ ﷺ فذَكَرَ ذلك له، فقال: "أنت عبدٌ أرادَ الله بك خيرًا، إنَّ الله إذا أراد بعبدٍ خيرًا عَجَّلَ له عقوبةَ ذنبِه، وإذا أراد بعيدٍ شرًّا أمسَكَ عليه العقوبةَ بذنبِه حتى يُوافِيَ به يومَ القيامة كأنه عَيْرٌ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8133 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8133 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جاہلیت کے زمانے میں ایک عورت بدکار تھی، اس کے پاس سے ایک شخص گزرا تو اس نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا اور اس سے چھیڑ چھاڑ کی، اس عورت نے کہا: ”رک جاؤ! بیشک اللہ تعالیٰ نے شرک کو ختم کر دیا ہے اور اسلام لے آیا ہے“، چنانچہ وہ شخص اسے چھوڑ کر پیٹھ پھیر کر چل دیا، لیکن وہ مڑ مڑ کر اسے دیکھنے لگا یہاں تک کہ (توجہ ہٹنے کی وجہ سے) اس کا چہرہ دیوار سے جا ٹکرایا، راوی کہتے ہیں: وہ شخص نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ سے اس واقعے کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم وہ بندے ہو جس کے ساتھ اللہ نے خیر کا ارادہ فرمایا ہے، بیشک اللہ جب کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے گناہ کی سزا اسے دنیا ہی میں جلد دے دیتا ہے، اور جب کسی بندے کے ساتھ شر کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے گناہ کی سزا (دنیا میں) روک لیتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اسے اس کا پورا بدلہ دیا جائے جیسے وہ ایک بوجھ ڈھونے والا گدھا ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدَّثنا الأسود بن عامر شاذانُ، حدَّثنا هُرَيم (1) بن سفيان البَجَلي، عن بَيَان بن بِشر، عن قيس بن أبي حازم، عن أبي شَهْم، قال: كنتُ بالمدينة، فمرَّتْ بي جاريةٌ فأخذتُ بكَشحِها، ثم أتيتُ النبيَّ ﷺ وهو يبايعُ الناسَ، فقال لي: "ألستَ صاحبَ الجَبْذةِ بالأمسِ؟ " قلت: لا أعودُ يا رسولَ الله، فبايَعَني (2).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8134 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8134 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
ابوشہم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں مدینہ منورہ میں تھا کہ میرے پاس سے ایک لونڈی گزری تو میں نے اسے اس کی کمر سے پکڑ لیا، پھر میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ ﷺ لوگوں سے بیعت لے رہے تھے، آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تم وہی نہیں ہو جس نے کل اسے پکڑا تھا؟“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اب دوبارہ ایسا نہیں کروں گا، چنانچہ آپ ﷺ نے مجھ سے بیعت لے لی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔