حدیث نمبر: 8333
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدَّثنا الأسود بن عامر شاذانُ، حدَّثنا هُرَيم (1) بن سفيان البَجَلي، عن بَيَان بن بِشر، عن قيس بن أبي حازم، عن أبي شَهْم، قال: كنتُ بالمدينة، فمرَّتْ بي جاريةٌ فأخذتُ بكَشحِها، ثم أتيتُ النبيَّ ﷺ وهو يبايعُ الناسَ، فقال لي: "ألستَ صاحبَ الجَبْذةِ بالأمسِ؟ " قلت: لا أعودُ يا رسولَ الله، فبايَعَني (2).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8134 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

ابوشہم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں مدینہ منورہ میں تھا کہ میرے پاس سے ایک لونڈی گزری تو میں نے اسے اس کی کمر سے پکڑ لیا، پھر میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ ﷺ لوگوں سے بیعت لے رہے تھے، آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تم وہی نہیں ہو جس نے کل اسے پکڑا تھا؟“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اب دوبارہ ایسا نہیں کروں گا، چنانچہ آپ ﷺ نے مجھ سے بیعت لے لی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8333
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8333] [ترقيم الشركة 8234] [ترقيم العلميه 8134]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في (ز) و (م) و (ب) إلى: إبراهيم، وفي (ك) إلى: هيم.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخہ (ز)، (م) اور (ب) میں یہ نام تحریف ہو کر "إبراهيم" بن گیا ہے، جبکہ نسخہ (ك) میں تحریف ہو کر "هيم" لکھا گیا ہے۔
(2) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 37/ (22511)، والنسائي (7288) من طريق أسود بن عامر، بهذا الإسناد.
متابعات و شواہد: امام احمد 37/ (22511) اور نسائی (7288) نے اس روایت کو اسود بن عامر کے طریق سے، اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (22512) من طريق يزيد بن عطاء، عن بيان بن بشر، به.
متابعات و شواہد: اور امام احمد (22512) نے اسے یزید بن عطاء کے طریق سے، بیان بن بشر سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8333 سے ماخوذ ہے۔