حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار العُطَاردي، حدثنا أبو معاوية، حدثنا الأعمش، عن عمرو بن مُرَّة، عن سالم بن أبي الجعد، عن أبي بَرْزَةَ قال: تَغيَّظَ أبو بكر على رجلٍ، فقلت: مَن هو يا خليفةَ رسول الله ﷺ؟ قال: لِمَ؟ قلتُ: لأضربَ عُنقَه إن أمرتني بذلك، قال: فقال أبو بكر: أوَكنتَ فاعلًا؟ قلت: نعم، قال: فوالله لأَذهَبَ عِظَمُ كلمتي التي قلتُ غضبَه، ثم قال: ما كانت لأحدٍ (1) بعد محمَّدٍ ﷺ (2). صحيح الإسناد على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8045 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8045 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ایک شخص پر سخت غضبناک ہوئے، میں نے عرض کی: اے خلیفہ رسول! وہ کون ہے؟ انہوں نے پوچھا: کیوں؟ میں نے عرض کی: تاکہ اگر آپ مجھے حکم دیں تو میں اس کی گردن اڑا دوں، راوی کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم واقعی ایسا کر دیتے؟ میں نے کہا: جی ہاں، تو اللہ کی قسم! میری اس بات نے ان کے غصے کو ختم کر دیا، پھر انہوں نے فرمایا: محمد ﷺ کے بعد (یہ مقام) کسی کے لیے نہیں ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرَناه محمد بن الحسن النَّصْراباذي، حدثنا يحيى بن محمد الحِنَّائي، حدثنا عبيد الله بن معاذ، أبي، حدثنا شُعْبة، عن تَوْبَةَ العَنْبري، قال: سمعتُ أبا السَّوّار عبد الله بن قُدامة بن عَنَزةَ القاضي يُحدِّث عن أبي بَرْزة الأسلمي قال: أغلَظَ رجلٌ لأبي بكر الصديق فقلتُ: يا خليفةَ رسول الله، ألا أقتلُه؟ فقال: ليسَ هذا إَّلا لمن شَتَمَ النبيَّ ﷺ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8046 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8046 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے بدکلامی کی، میں نے عرض کی: اے خلیفہ رسول! کیا میں اسے قتل نہ کر دوں؟ تو انہوں نے فرمایا: یہ (اختیار) کسی کے لیے نہیں ہے سوائے اس شخص کے جو نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرے۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني سليمان بن بلال، عن عمرو مولى المُطَّلب، عن عكرمة، عن ابن عباس، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "مَن وَجَدتُموه يعملُ عملَ قوم لوطٍ، فاقتلوا الفاعلَ والمفعولَ به" (1). قال سليمان بن بلال: سمعتُ يحيى بن سَعيد وربيعةَ يقولان: مَن عَمِلَ عملَ قوم لُوطٍ فعليه الرجمُ، أَحْصَنَ أو لم يُحصَنُ.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وله شاهد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8047 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وله شاهد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8047 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جسے تم قومِ لوط والا عمل کرتے ہوئے پاؤ، تو کرنے والے اور جس کے ساتھ کیا گیا ہو دونوں کو قتل کر دو۔“ سلیمان بن بلال کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن سعید اور ربیعہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ جو قومِ لوط والا عمل کرے اسے رجم کیا جائے گا، خواہ وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أحمد بن سهل الفقيه ببُخارى، أخبرنا أبو عِصمةَ سهل بن المُتوكِّل، حدثنا القَعْنَبي، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن عمر بن حفص بن عاصم بن عمر بن الخطّاب، عن سُهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن عَمِلَ عمل قوم لوطٍ، فارجُموا الفاعلَ والمفعولَ به" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8048 - عبد الرحمن بن عبد الله بن عمر العمري ساقط
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8048 - عبد الرحمن بن عبد الله بن عمر العمري ساقط
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے قومِ لوط والا عمل کیا، تو کرنے والے اور جس کے ساتھ کیا گیا ہو، دونوں کو رجم کر دو۔“