کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جس کا کوئی وارث نہ ہو سوائے اس غلام کے جسے اس نے آزاد کیا، تو میراث اسی کی ہے
أخبرني أبو الحسين محمد بن أحمد الخيّاط بقَنْطرةِ بَرَدَان، حدثنا أبو قِلَابة، حدثنا أبو عاصم، أخبرنا ابن جُرَيج، أخبرني عمرو بن دينار، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أن رجلًا مات، فقال النبيُّ ﷺ: "التمِسُوا وارثًا"، فلم يُوجَدْ إِلَّا مولًى له هو الذي أعتقَه، فقال رسول الله ﷺ: "أعطوه إيّاه" (3)
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. إلَّا أنَّ حمّاد بن سَلَمة وسفيان بن عُيَينة روياه عن عمرو بن دينار عن عَوسَجة مولي ابن عباس عن ابن عباس. أمّا حديثُ حمّاد:
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. إلَّا أنَّ حمّاد بن سَلَمة وسفيان بن عُيَينة روياه عن عمرو بن دينار عن عَوسَجة مولي ابن عباس عن ابن عباس. أمّا حديثُ حمّاد:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص فوت ہو گیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اس کا کوئی وارث تلاش کرو۔“ لیکن اس کے ایک آزاد کردہ غلام «مَوْلًى» کے سوا کوئی وارث نہ ملا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میراث اسی کو دے دو۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ البتہ حماد بن سلمہ اور سفیان بن عیینہ نے اسے عمرو بن دینار سے، انہوں نے ابن عباس کے مولیٰ عوسجہ سے اور انہوں نے ابن عباس سے روایت کیا ہے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ البتہ حماد بن سلمہ اور سفیان بن عیینہ نے اسے عمرو بن دینار سے، انہوں نے ابن عباس کے مولیٰ عوسجہ سے اور انہوں نے ابن عباس سے روایت کیا ہے۔
فأخبرَناه أبو عبد الله الصَّفَّار، حدثنا محمد بن مَسلَمة، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا حمّاد بن سَلَمة (1). وأمّا حديث ابن عُيَينة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8013 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8013 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
حماد بن سلمہ کی روایت کے مطابق، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں ایک شخص فوت ہوا اور اس نے اپنے آزاد کردہ غلام کے علاوہ کوئی وارث یا قریبی رشتہ دار نہیں چھوڑا تھا، چنانچہ نبی کریم ﷺ نے وراثت اسی غلام کو عطا فرما دی۔
فحدَّثَناه علي بن حَمْشاذ العَدْل، أخبرنا بِشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن عمرو بن دِينار قال: أخبرني عَوسَجةُ مولى ابن عباس قال: سمعتُ ابنَ عباس يقول: ماتَ رجلٌ على عهد رسولِ الله ﷺ ولم يترك وارثًا ولا قرابةً إِلَّا عبدًا أعتقَه، فأعطاه النبيُّ ﷺ الميراثَ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8015 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8015 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
عوسجہ (مولیٰ ابن عباس) بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ اقدس میں ایک شخص کا انتقال ہوا جس نے اپنے آزاد کردہ غلام کے سوا کوئی وارث یا رشتہ دار نہیں چھوڑا تھا، تو نبی کریم ﷺ نے اس کی میراث (اسی غلام کو) دے دی۔
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، عن إبراهيم بن طَهْمان، عن سِمَاك، عن عِكرمة عن ابن عباس قال: اختَصَمُوا إلى عليٍّ في ولد المُلاعَنة، فجاء عَصَبةُ أبيه يَطلُبون ميراثه، فقال: إنَّ أباه قد كان تبرَّأَ منه، فأعطَى أمَّه المِيراثَ وجعلها عَصَبةً، ولم يُعطِهم شيئًا (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، وإن كان موقوفًا على حكم أمير المؤمنين، فإنه غريبٌ من فتاويه وأحكامِه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8016 - صحيح غريب
هذا حديث صحيح الإسناد، وإن كان موقوفًا على حكم أمير المؤمنين، فإنه غريبٌ من فتاويه وأحكامِه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8016 - صحيح غريب
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس لعان کرنے والی عورت کے بچے «وَلَدِ الْمُلَاعَنَةِ» کا معاملہ پیش کیا، تو اس کے باپ کے عصبہ (رشتہ دار) آ کر اس کی میراث کا مطالبہ کرنے لگے، اس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے شک اس کے باپ نے تو (لعان کے ذریعے) اس سے برأت کا اظہار کر دیا تھا، چنانچہ آپ نے اس کی میراث اس کی ماں کو دے دی اور اسے ہی عصبہ قرار دیا اور ان لوگوں کو کچھ نہ دیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، اگرچہ یہ امیر المؤمنین کے فیصلے پر موقوف ہے، لیکن یہ آپ کے فتاویٰ اور احکام میں سے ایک نادر روایت ہے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، اگرچہ یہ امیر المؤمنین کے فیصلے پر موقوف ہے، لیکن یہ آپ کے فتاویٰ اور احکام میں سے ایک نادر روایت ہے۔