المستدرك على الصحيحين
كتاب الفرائض— وراثت کے متعلق روایات
مَنْ لَمْ يَتْرُكْ وَارِثًا إِلَّا عَبْدًا أَعْتَقَهُ فَالْمِيرَاثُ لَهُ باب: جس کا کوئی وارث نہ ہو سوائے اس غلام کے جسے اس نے آزاد کیا، تو میراث اسی کی ہے
حدیث نمبر: 8214
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، عن إبراهيم بن طَهْمان، عن سِمَاك، عن عِكرمة عن ابن عباس قال: اختَصَمُوا إلى عليٍّ في ولد المُلاعَنة، فجاء عَصَبةُ أبيه يَطلُبون ميراثه، فقال: إنَّ أباه قد كان تبرَّأَ منه، فأعطَى أمَّه المِيراثَ وجعلها عَصَبةً، ولم يُعطِهم شيئًا (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، وإن كان موقوفًا على حكم أمير المؤمنين، فإنه غريبٌ من فتاويه وأحكامِه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8016 - صحيح غريبحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس لعان کرنے والی عورت کے بچے «وَلَدِ الْمُلَاعَنَةِ» کا معاملہ پیش کیا، تو اس کے باپ کے عصبہ (رشتہ دار) آ کر اس کی میراث کا مطالبہ کرنے لگے، اس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے شک اس کے باپ نے تو (لعان کے ذریعے) اس سے برأت کا اظہار کر دیا تھا، چنانچہ آپ نے اس کی میراث اس کی ماں کو دے دی اور اسے ہی عصبہ قرار دیا اور ان لوگوں کو کچھ نہ دیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، اگرچہ یہ امیر المؤمنین کے فیصلے پر موقوف ہے، لیکن یہ آپ کے فتاویٰ اور احکام میں سے ایک نادر روایت ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن وسلف الخبر والكلام عليه برقم (8188).
درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے؛ اور یہ خبر اور اس پر کلام پیچھے نمبر (8188) پر گزر چکا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے؛ اور یہ خبر اور اس پر کلام پیچھے نمبر (8188) پر گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8214 سے ماخوذ ہے۔