مستدرکِ حاکم
كتاب الفرائض— وراثت کے متعلق روایات
مَنْ لَمْ يَتْرُكْ وَارِثًا إِلَّا عَبْدًا أَعْتَقَهُ فَالْمِيرَاثُ لَهُ باب: جس کا کوئی وارث نہ ہو سوائے اس غلام کے جسے اس نے آزاد کیا، تو میراث اسی کی ہے
حدیث نمبر: 8213
فأخبرَناه أبو عبد الله الصَّفَّار، حدثنا محمد بن مَسلَمة، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا حمّاد بن سَلَمة (1). وأمّا حديث ابن عُيَينة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8013 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
حماد بن سلمہ کی روایت کے مطابق، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں ایک شخص فوت ہوا اور اس نے اپنے آزاد کردہ غلام کے علاوہ کوئی وارث یا قریبی رشتہ دار نہیں چھوڑا تھا، چنانچہ نبی کریم ﷺ نے وراثت اسی غلام کو عطا فرما دی۔
فحدَّثَناه علي بن حَمْشاذ العَدْل، أخبرنا بِشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن عمرو بن دِينار قال: أخبرني عَوسَجةُ مولى ابن عباس قال: سمعتُ ابنَ عباس يقول: ماتَ رجلٌ على عهد رسولِ الله ﷺ ولم يترك وارثًا ولا قرابةً إِلَّا عبدًا أعتقَه، فأعطاه النبيُّ ﷺ الميراثَ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8015 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
عوسجہ (مولیٰ ابن عباس) بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ اقدس میں ایک شخص کا انتقال ہوا جس نے اپنے آزاد کردہ غلام کے سوا کوئی وارث یا رشتہ دار نہیں چھوڑا تھا، تو نبی کریم ﷺ نے اس کی میراث (اسی غلام کو) دے دی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف كما سبق، ومحمد بن مسلمة فيه مقال، لكنه متابع.
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے جیسا کہ گزر چکا؛ اور محمد بن مسلمہ میں "مقال" (اعتراض) ہے، لیکن وہ "متابع" (تائید شدہ) ہے۔
وأخرجه أبو داود (2905) عن موسى بن إسماعيل، عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (2905) نے موسیٰ بن اسماعیل سے، انہوں نے حماد بن سلمہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے جیسا کہ گزر چکا؛ اور محمد بن مسلمہ میں "مقال" (اعتراض) ہے، لیکن وہ "متابع" (تائید شدہ) ہے۔
وأخرجه أبو داود (2905) عن موسى بن إسماعيل، عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (2905) نے موسیٰ بن اسماعیل سے، انہوں نے حماد بن سلمہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8213 سے ماخوذ ہے۔