کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: ملاعنہ (جس پر زنا کی تہمت لگی ہو) کے بچے کے وارث اس کے ننھیال والے ہیں
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو عُتبة أحمد بن الفَرَج، حدثنا بَقيَّة بن الوليد، حدثني أبو سَلَمة الحِمصي سليمان بن سُلَيم (1)، عن عمر (2) ابن رُوبَة، عن عبد الواحد بن عبد الله النَّصْري (3)، عن واثلة بن الأسقَع، عن النبي ﷺ قال: "تَحُوزُ المرأة ثلاثةَ مَوارِيث: عَتيقَها ولَقِيطَها والولدَ الذي لا عَنَت عليه" (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”عورت تین قسم کی وراثتیں حاصل کرتی ہے: اپنے آزاد کردہ غلام کی، اپنے پائے جانے والے لاوارث بچے «لَقِيط» کی اور اس بیٹے کی جس کے بارے میں «لعان» (تہمتِ زنا کے بعد علیحدگی) کیا گیا ہو۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله بن يعقوب الحافظ وأبو يحيى السَّمَرقندي، قالا: حدثنا محمد بن نصر الإمام، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا عبَّاد بن العوّام، عن عمر بن عامر عن حمَّاد، عن إبراهيم، عن ابن مسعود: أنه قال في مِيراث ابن الملاعَنة: مِيراثُه كلُّه لأمِّه (1).
هذا حديث رواتُه كلُّهم ثِقات، وهو مرسل، وله شاهدٌ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7987 - مرسل
هذا حديث رواتُه كلُّهم ثِقات، وهو مرسل، وله شاهدٌ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7987 - مرسل
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے «لعان» کرنے والی عورت کے بیٹے کی میراث کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اس کی تمام میراث اس کی ماں کے لیے ہے۔“
اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں اور یہ مرسل ہے، تاہم اس کا ایک شاہد (تائیدی روایت) موجود ہے۔
اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں اور یہ مرسل ہے، تاہم اس کا ایک شاہد (تائیدی روایت) موجود ہے۔
أخبرَناه أبو يحيى وحدَه، حدثنا محمد بن نصر، حدثنا عبد الأعلى بن حمّاد، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن داود بن أبي هِند، عن عبد الله بن عُبيد بن عُمير، عن رجل من أهل الشام: أنَّ رسول الله ﷺ قال في ولد المُلاعَنة: "عَصَبَتْه أُمُّه" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7988 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7988 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
اہل شام کے ایک شخص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے «لعان» کرنے والی عورت کی اولاد کے بارے میں فرمایا: ”اس کی ماں ہی اس کی «عصبہ» (وارث) ہے۔“
وأخبرنا أبو يحيى، حدثنا محمد بن نصر، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا يحيى بن أبي بُكير، عن إبراهيم بن طَهْمان عن سِمَاك، عن عِكرمة، عن ابن عباس قال: اختُصِمَ إلى علي بن أبي طالب في ولد مُلاعَنِة، فأعطَى ميراثَه أُمَّه، وجعلها عَصَبَتَه (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، ومحمد بن إسحاق هذا: هو الصَّغَاني بلا شكٍّ فيه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7989 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، ومحمد بن إسحاق هذا: هو الصَّغَاني بلا شكٍّ فيه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7989 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس ایسی عورت کے بچے کا مقدمہ لایا گیا جس کے ساتھ «لعان» کیا گیا تھا، تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس کی میراث اس کی ماں کو عطا کی اور اسے ہی اس کا «عصبہ» قرار دیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس سند میں محمد بن اسحاق سے مراد بلا شک و شبہ ”صغانی“ ہیں۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس سند میں محمد بن اسحاق سے مراد بلا شک و شبہ ”صغانی“ ہیں۔