کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اصل غنا (امیری) دل کا غنی ہونا ہے اور اصل فقر دل کا فقیر ہونا ہے
أخبرنا أبو الحسن محمد بن علي بن بكر العَدْل، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا عبد الله بن صالح المصري، حدثني معاوية بن صالح، أنَّ عبد الرحمن بن جُبَير حدَّثه عن أبيه، عن أبي ذرٍّ، عن النبيِّ ﷺ أنه قال: "يا أبا ذرّ، أترى كثرةَ المالِ هو الغِنَى؟ " قلت: نعم يا رسولَ الله هو الغِني، قال: "وترى أنَّ قِلّةَ المال هو الفقرُ؟ " قلت: نعم يا رسول الله، هو الفقرُ، قال: "ليس كذاكَ، إنما الغِنى غِنى القلب، والفقرُ فقرُ القلب". ثم سألني رسولُ الله ﷺ عن رجلٍ من قريش، فقال: "تعرفُ فلانًا؟ " قلت: نعم يا رسول الله، فقال: "فكيف تراهُ؟ " قلتُ: إذا سأل أعطي، وإذا حَضَر دَخَل. قال: ثم سألني عن رجل من أهل الصُّفّة، فقال: "هل تعرفُ فلانًا؟ " قلتُ: لا يا رسول الله، قال: فما زال يُحلِّيه ويَنْعتُه حتى عرفتُه، قال: قلت: نعم يا رسولَ الله، قال: "فكيف تراهُ؟ " قلت: رجلٌ مِسكينٌ من أهل المسجد، قال: "هو خيرٌ من طِلاعِ الأرض مثلَ الآخَر" قلت يا رسول الله، أفلا يُعطَى من بعض ما يُعطى الآخَر، قال: "إنْ يُعطَ فهو أهلُه، وإن يُصرَفْ عنه فقد أُعطيَ حسنةً" (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما خرَّجاه من طريق الأعمش عن زيد بن وهب عن أبي ذرٍّ مختصرًا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7929 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما خرَّجاه من طريق الأعمش عن زيد بن وهب عن أبي ذرٍّ مختصرًا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7929 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوذر! کیا تم کثرتِ مال کو غنا (مالداری) سمجھتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہ! یہی غنا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور کیا تم مال کی کمی کو فقر (تنگدستی) سمجھتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہ! یہی فقر ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا نہیں ہے، بلکہ حقیقت میں غنا تو دل کی بے نیازی (غنائے قلب) ہے اور فقر دل کی محتاجی (فقرِ قلب) ہے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے قریش کے ایک شخص کے بارے میں پوچھا: ”کیا تم فلاں کو جانتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے پوچھا: ”اسے کیسا پاتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: وہ جب مانگتا ہے تو اسے دیا جاتا ہے اور جب وہ (کسی مجلس میں) حاضر ہوتا ہے تو اسے داخلہ مل جاتا ہے۔ راوی کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ نے مجھ سے اہل صفہ کے ایک شخص کے بارے میں پوچھا: ”کیا تم فلاں کو جانتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، یا رسول اللہ! تو آپ ﷺ مسلسل اس کا حلیہ اور اوصاف بیان فرماتے رہے یہاں تک کہ میں نے اسے پہچان لیا، میں نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم اسے کیسا پاتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: وہ مسجد کے رہنے والے ایک مسکین آدمی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ (مومن مسکین) زمین بھر ایسے (امیر) لوگوں سے بہتر ہے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اسے بھی اس (امیر) کو دیے گئے مال میں سے کچھ نہیں دیا جانا چاہیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اسے دے دیا جائے تو وہ اس کا اہل ہے، اور اگر اس سے روک لیا جائے تو یقیناً اسے (اس کے بدلے) نیکی عطا کر دی گئی ہے۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، انہوں نے اسے اعمش کے طریق سے زید بن وہب سے اور انہوں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مختصراً روایت کیا ہے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، انہوں نے اسے اعمش کے طریق سے زید بن وہب سے اور انہوں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مختصراً روایت کیا ہے۔
أخبرنا عَبْدان بن يزيد الدَّقَّاق بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا أبو مُسهِر، حدثني صَدَقة بن خالد، حدثني عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، حدثني عُروة بن محمد بن عطيّة، حدثني أبي، أنَّ أباه أخبره قال: قَدِمتُ على رسولِ الله ﷺ في أناسٍ من بني سعد بن بكر، وكنتُ أصغرَ القوم فخلَّفوني في رحالِهم، ثم أتَوا رسولَ الله ﷺ فقَضَى من حوائجِهم، ثم قال: "هل بقي منكم من أحدٍ؟ " قالوا: نعم، غلامٌ معنا خلَّفْناه في رِحالِنا. فأمرهم أن يَبعثُوا إليّ، فأَتوني فقالوا: أَجِبْ رسولَ الله ﷺ، فأتيتُه، فلما رآني قال: "ما أغناكَ اللهُ فلا تسألِ الناس شيئًا، فإنَّ اليد العُلْيا هي المُنطِيَة، وإنَّ اليد السُّفلى هي المُنْطاة، وإنَّ مالَ الله تعالى لمسؤولٌ ومُنْطًى"، قال: فكلَّمنى رسولُ الله ﷺ بلُغتِنا (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7930 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7930 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عروہ بن محمد بن عطیہ کے والد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں بنو سعد بن بکر کے کچھ لوگوں کے ہمراہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں قوم میں سب سے چھوٹا تھا اس لیے انہوں نے مجھے اپنے سامان کے پاس پیچھے چھوڑ دیا، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے ان کی ضروریات پوری کر دیں، پھر آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی باقی رہ گیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، ایک لڑکا ہمارے ساتھ ہے جسے ہم نے اپنے سامان کے پاس پیچھے چھوڑا ہے، تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ مجھے بلائیں، وہ میرے پاس آئے اور کہا: رسول اللہ ﷺ کی پکار پر حاضر ہو جاؤ، چنانچہ میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، جب آپ ﷺ نے مجھے دیکھا تو فرمایا: ”جب تک اللہ تمہیں بے نیاز رکھے تم لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرو، کیونکہ اوپر والا ہاتھ دینے والا ہے اور نیچے والا ہاتھ لینے والا ہے، اور اللہ تعالیٰ کا مال تو ایسا ہے جس کے بارے میں (قیامت کے دن) سوال ہوگا اور وہ (تقسیم کے لیے) دیا گیا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: پھر رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ہماری زبان (لہجے) میں گفتگو فرمائی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔