کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: قسم کھانا یا تو اسے توڑنے (حنث) کا باعث بنتا ہے یا ندامت کا
أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا عمرو بن علي، عن عبد الله بن سعيد بن أبي سعيد المَقبُري، عن جدِّه، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "يمينُك على ما يُصدِّقُك به صاحبُك" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہاری قسم اس نیت پر معتبر ہوگی جس پر تمہارا ساتھی (جس کے لیے قسم کھائی جا رہی ہے) تمہیں سچا تسلیم کرتا ہو۔“
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا أبو معاوية، حدثنا بشَّار (2) بن كِدَام السُّلَمي، عن محمد بن زيد، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: "الحَلِفُ حِنثٌ أو نَدَمٌ" (3). قال الحاكم: قد كنتُ أحسبُ برهةً من دَهْري أن بشارًا هذا أخو مِسعَر فلم أَقف عليه (4)، وهذا الكلام صحيح من قول ابن عمر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7835 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7835 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قسم کھانا یا تو (وعدہ خلافی کا) گناہ ہے یا پھر (باعثِ) ندامت و پچھتاوا ہے۔“
امام حاکم فرماتے ہیں کہ میں اپنی زندگی کا ایک طویل عرصہ یہی گمان کرتا رہا کہ یہ راوی بشار، مسعر کے بھائی ہیں لیکن مجھے اس پر آگاہی حاصل نہ ہو سکی، اور یہ کلام سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے قول کے طور پر صحیح ہے۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ میں اپنی زندگی کا ایک طویل عرصہ یہی گمان کرتا رہا کہ یہ راوی بشار، مسعر کے بھائی ہیں لیکن مجھے اس پر آگاہی حاصل نہ ہو سکی، اور یہ کلام سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے قول کے طور پر صحیح ہے۔
حدَّثَناه أحمد بن سهل البُخاري، حدثنا سهل بن المتوكِّل، حدثنا إبراهيم بن المنذر، حدثنا أبو ضَمْرة، عن عاصم بن محمد بن زيد بن عبد الله بن عمر بن الخطاب، عن أبيه، عن ابن عمر قال: إنما اليمينُ مَأْثَمةٌ أو مَنْدَمةٌ (1). آخر كتاب الأيمان [كتاب النذور]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7836 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7836 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”قسم تو محض گناہ کا بوجھ ہے یا پھر باعثِ پشیمانی ہے۔“