کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: یہ نہ کہو کہ "شیطان ہلاک ہو" کیونکہ اس سے وہ خود کو بڑا سمجھنے لگتا ہے
حدثنا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا أبو المثنّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يزيد بن زُرَيع، حدثنا، خالد، عن أبي تَمِيمة (3)، عن رَدِيفِ رسولِ الله ﷺ: أنه عَثَرَت به دابَّتُه فقال: تَعِسَ الشيطانُ! فقال رسول الله ﷺ: "لا تقُلْ: تَعِسَ الشيطانُ، فإنك إذا قلتَ: تَعِسَ الشيطانُ، تعاظَمَ، وقال: بقوّتي صَرَعتُه، وإذا قيل: باسم الله، خَنَسَ حتى يصيرَ مثلَ الذُّباب (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ورديفُ رسول الله ﷺ الذي لم يُسمِّه يزيدُ بن زُرَيع عن خالد، سمَّاه غيرُه أسامةَ بن مالك والدَ أبي المَلِيح بن أسامة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7792 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ورديفُ رسول الله ﷺ الذي لم يُسمِّه يزيدُ بن زُرَيع عن خالد، سمَّاه غيرُه أسامةَ بن مالك والدَ أبي المَلِيح بن أسامة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7792 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
رسول اللہ ﷺ کے ایک ردیف (سواری پر پیچھے بیٹھنے والے صحابی) سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ان کی سواری ٹھوکر کھا کر گری تو انہوں نے کہا: ”شیطان غارت ہو «تعس الشيطان»“، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ نہ کہو کہ شیطان غارت ہو، کیونکہ جب تم یہ کہتے ہو تو وہ فخر سے بڑا ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے اپنی قوت سے اسے گرا دیا، بلکہ جب ایسی صورت ہو تو ”بسم اللہ“ کہا کرو، کیونکہ جب تم اللہ کا نام لیتے ہو تو وہ ذلیل ہو کر مکھی جتنا چھوٹا ہو جاتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثَناه علي بن عيسى، حدثنا أحمد بن نَجْدة القُرشي، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا محمد بن حُمْران، حدثنا خالد الحذَّاء، عن أبي تَمِيمة، عن أبي المَلِيح بن أسامة، عن أبيه قال: كنتُ رَدِيفَ رسولِ الله ﷺ فَعَثَرَ بعيرُنا، فقلتُ: تَعِسَ الشَّيطانُ، فقال لي النبيُّ ﷺ: "لا تقُلْ: تَعِسَ الشيطانُ، فإنه يَستعظِمُ حتى يكونَ مثلَ البيتِ ويَقْوَى، ولكن قُلْ: باسم الله، فإذا قلتَ: باسم الله، تصاغَرَ حتى يصيرَ مثلَ الذُّباب" (1).
حافظ طلحہ بابر
ابوملیح بن اسامہ اپنے والد (اسامہ بن مالک) سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی سواری پر پیچھے بیٹھا ہوا تھا کہ ہمارا اونٹ ٹھوکر کھا کر گرا، میں نے کہا: ”شیطان غارت ہو“، تو نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”یہ نہ کہو کہ شیطان غارت ہو، کیونکہ اس سے وہ تکبر میں آ کر گھر جتنا بڑا ہو جاتا ہے اور خود کو طاقتور سمجھتا ہے، بلکہ ”بسم اللہ“ کہا کرو، کیونکہ تمہارے بسم اللہ کہنے سے وہ اتنا حقیر ہو جاتا ہے کہ مکھی کے برابر رہ جاتا ہے۔“
أخبرنا الأستاذ أبو الوليد وأبو عمرو الحِيري وأبو بكر بن قُريش، قالوا: حدثنا الحسن بن سفيان حدثنا عمر (1) بن حفص الشَّيباني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عبد الجبار بن عمر الأَيْلي، عن محمد بن المُنكدِر، عن جابر قال: كان رسولُ الله ﷺ، إِذا مَشَى لم يَلتفِت (2). قال الحاكم: لا أعلم أحدًا رواه عن محمد بن المنكدِر غير عبد الجبار.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7794 - عبد الجبار بن عمر تالف
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7794 - عبد الجبار بن عمر تالف
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب چلتے تھے تو (راستے میں) پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے تھے۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ میں عبدالجبار کے علاوہ کسی کو نہیں جانتا جس نے اسے محمد بن منکدر سے روایت کیا ہو۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ میں عبدالجبار کے علاوہ کسی کو نہیں جانتا جس نے اسے محمد بن منکدر سے روایت کیا ہو۔
حدثنا أحمد بن سهل البخاري، حدثنا صالح بن محمد الحافظ، حدثنا محمود بن غَيْلان، حدثنا أبو داود، حدثنا الحَكَم بن عطيَّة، عن ثابت البُناني، عن أنس بن مالك، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "تُسَمُّون أولادكم محمدًا ثم تَلْعَنُونهم؟! (1). تفرَّد الحكمُ بن عطيّة عن ثابت.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7795 - الحكم بن عطية وثقه بعضهم وهو لين
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7795 - الحكم بن عطية وثقه بعضهم وهو لين
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے بچوں کے نام ”محمد“ رکھتے ہو اور پھر انہیں (نام لے کر) بددعائیں اور لعنت کرتے ہو؟!“
اس روایت میں حکم بن عطیہ، ثابت بنانی سے روایت کرنے میں منفرد ہیں۔
اس روایت میں حکم بن عطیہ، ثابت بنانی سے روایت کرنے میں منفرد ہیں۔