المستدرك على الصحيحين
كتاب الأدب— ادب کے بارے میں روایات
لَا تَقُولُوا تَعِسَ الشَّيْطَانُ فَإِنَّهُ يَسْتَعْظِمُ . باب: یہ نہ کہو کہ "شیطان ہلاک ہو" کیونکہ اس سے وہ خود کو بڑا سمجھنے لگتا ہے
حدیث نمبر: 7987
حدَّثَناه علي بن عيسى، حدثنا أحمد بن نَجْدة القُرشي، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا محمد بن حُمْران، حدثنا خالد الحذَّاء، عن أبي تَمِيمة، عن أبي المَلِيح بن أسامة، عن أبيه قال: كنتُ رَدِيفَ رسولِ الله ﷺ فَعَثَرَ بعيرُنا، فقلتُ: تَعِسَ الشَّيطانُ، فقال لي النبيُّ ﷺ: "لا تقُلْ: تَعِسَ الشيطانُ، فإنه يَستعظِمُ حتى يكونَ مثلَ البيتِ ويَقْوَى، ولكن قُلْ: باسم الله، فإذا قلتَ: باسم الله، تصاغَرَ حتى يصيرَ مثلَ الذُّباب" (1).
حافظ طلحہ بابر
ابوملیح بن اسامہ اپنے والد (اسامہ بن مالک) سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی سواری پر پیچھے بیٹھا ہوا تھا کہ ہمارا اونٹ ٹھوکر کھا کر گرا، میں نے کہا: ”شیطان غارت ہو“، تو نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”یہ نہ کہو کہ شیطان غارت ہو، کیونکہ اس سے وہ تکبر میں آ کر گھر جتنا بڑا ہو جاتا ہے اور خود کو طاقتور سمجھتا ہے، بلکہ ”بسم اللہ“ کہا کرو، کیونکہ تمہارے بسم اللہ کہنے سے وہ اتنا حقیر ہو جاتا ہے کہ مکھی کے برابر رہ جاتا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن حمران ليِّن الحديث، وقد سلك فيه طريق الجادة، فجعل صحابيه أسامة. وأخرجه النسائي (10313) من طريق أحمد بن عبدة، عن محمد بن حمران، بهذا الإسناد. وقال: هذا عندي خطأ.
درجۂ حدیث: اصل حدیث صحیح ہے، لیکن یہ سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: راوی محمد بن حمران "لیّن الحدیث" (کمزور) ہیں اور انہوں نے معروف راستہ (طریقِ جادہ) اپناتے ہوئے صحابی کے طور پر حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کا نام ذکر کر دیا ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی (10313) نے احمد بن عبدہ کے طریق سے محمد بن حمران کی اسی سند سے روایت کیا اور فرمایا: "میرے نزدیک یہ خطا ہے"۔
درجۂ حدیث: اصل حدیث صحیح ہے، لیکن یہ سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: راوی محمد بن حمران "لیّن الحدیث" (کمزور) ہیں اور انہوں نے معروف راستہ (طریقِ جادہ) اپناتے ہوئے صحابی کے طور پر حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کا نام ذکر کر دیا ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی (10313) نے احمد بن عبدہ کے طریق سے محمد بن حمران کی اسی سند سے روایت کیا اور فرمایا: "میرے نزدیک یہ خطا ہے"۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7987 سے ماخوذ ہے۔