کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: برہنہ (نیام سے نکلی ہوئی) تلوار پکڑنے یا دینے کی ممانعت
حدثنا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق وعلي بن عبد العزيز قالا: حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا حمَّاد بن سَلَمة، عن أبي الزُّبير، عن جابر قال: نَهَى رسولُ الله ﷺ أن يُتعاطَى السيفُ مسلولًا (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7785 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7785 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ ایک دوسرے کو ننگی تلوار (میان سے باہر) پکڑائی جائے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا الخَصِيب بن ناصح، حدثنا المُبارك بن فَضَالة، عن الحسن، عن أبي بَكْرة قال: مرَّ رسول الله ﷺ على قوم يتعاطون سيفًا مسلولًا، فقال رسول الله ﷺ: "لَعَنَ اللهُ من فعلَ هذا، أوَليسَ قد نَهيتُ عن هذا؟ إذا سلَّ أحدكم سيفًا ينظرُ إليه فأراد أن يناولَه أخاه فليُغمِدْه، ثم يُناوِلْه إياه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7786 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7786 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا جو ننگی تلوار ایک دوسرے کو پکڑا رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اس پر لعنت کرے جو ایسا کرے، کیا میں نے اس سے منع نہیں کیا تھا؟ جب تم میں سے کوئی تلوار میان سے نکال کر اسے دیکھ لے اور پھر اپنے بھائی کو دینا چاہے تو پہلے اسے میان میں ڈالے، پھر اسے پکڑائے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي بن أحمد بن عَلَم الصَّفَّار (1) ببغداد، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني (2)، حدثنا وهب بن جَرير، حدثنا أبي قال: سمعتُ منصور بن زاذان يُحدِّث عن ميمون بن أبي شَبيب، عن قيس بن سعد بن عُبادة: أنَّ أباه دَفَعَه إلى النبيِّ ﷺ يَخدُمُه، قال: فأتى عليَّ النبيُّ ﷺ وقد صلَّيتُ ركعتينِ، فضربني برِجْله، فقال: "ألا أدلُّكَ على بابٍ من أبواب الجنَّة؟ " قلت: بلى يا رسولَ الله، قال: "لا حول ولا قوةَ إلَّا بالله" (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وكان القصدُ في ذكره في هذا الموضع أنَّ الوالدَ مباحٌ له أن يُخدِمَ ولدَه، ثم للموهوب له الخدمةُ أن يَستخدِمَ، ثم يُعرف من فضل قيس بن سعد ﵁ أنَّه خدم النبي ﷺ حتى صار منه بمنزلة صاحب الشُّرَط، ثم لم يُفارِقُ أميرَ المؤمنين علي بن أبي طالب ﷺ في السَّرّاء والضَّرّاء إلى أن استُشِهدَ بين يديه يوم صِفِّين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7787 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وكان القصدُ في ذكره في هذا الموضع أنَّ الوالدَ مباحٌ له أن يُخدِمَ ولدَه، ثم للموهوب له الخدمةُ أن يَستخدِمَ، ثم يُعرف من فضل قيس بن سعد ﵁ أنَّه خدم النبي ﷺ حتى صار منه بمنزلة صاحب الشُّرَط، ثم لم يُفارِقُ أميرَ المؤمنين علي بن أبي طالب ﷺ في السَّرّاء والضَّرّاء إلى أن استُشِهدَ بين يديه يوم صِفِّين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7787 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے انہیں نبی کریم ﷺ کی خدمت کے لیے پیش کر دیا تھا، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں دو رکعت نماز پڑھ رہا تھا کہ نبی کریم ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور مجھے اپنے پاؤں (مبارک) سے اشارہ کیا اور فرمایا: ”کیا میں تمہیں جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے (کی کنجی) کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”«لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» (کہا کرو)۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ امام حاکم فرماتے ہیں کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ والد کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی اولاد کو (بزرگوں کی) خدمت کے لیے پیش کرے، نیز قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کی فضیلت واضح ہوتی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کی اس قدر خدمت کی کہ آپ کے دستِ راست (صاحب الشرط) کی طرح ہو گئے اور پھر امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا ساتھ بھی ہر حال میں دیا یہاں تک کہ جنگ صفین میں ان کے سامنے شہادت پائی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ امام حاکم فرماتے ہیں کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ والد کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی اولاد کو (بزرگوں کی) خدمت کے لیے پیش کرے، نیز قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کی فضیلت واضح ہوتی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کی اس قدر خدمت کی کہ آپ کے دستِ راست (صاحب الشرط) کی طرح ہو گئے اور پھر امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا ساتھ بھی ہر حال میں دیا یہاں تک کہ جنگ صفین میں ان کے سامنے شہادت پائی۔