حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر، حدثنا بِشر (1) ابن بكر، حدثنا الأوزاعي، حدثني ابن شِهاب، حدثني ثابت الزُّرَقي، أنَّ أبا هريرة قال: أَخَذَتِ الناسَ رِيحٌ بطريق مكة وعمر بن الخطاب حاج، فاشتدَّتْ عليهم، فقال عمر بن الخطاب لمن حولَه ما الريحُ؟ فلم يَرجِعوا إليه شيئًا، فبلغني الذي سأل عنه عمرُ، فاستَحثَثتُ راحلتي حتى أدركتُه، فقلت: يا أميرَ المؤمنين، أُخبرتُ أنَّك سألتَ عن الرِّيح، وإني سمعت رسولَ الله ﷺ يقول: "الرِّيحُ من رَوْحِ الله تعالى؛ تأتي بالرَّحمة وتأتي بالعذاب، فلا تَسبُّوها، وسَلُوا الله خيرَها، واستَعيذُوا بالله من شرِّها" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7769 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7769 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مکہ کے راستے میں لوگوں کو آندھی نے آ لیا جبکہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حج کر رہے تھے، جب آندھی تیز ہوئی تو عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے اردگرد کے لوگوں سے پوچھا: ہوا کیا ہے؟ کسی نے جواب نہ دیا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب مجھے معلوم ہوا تو میں نے اپنی سواری تیز کی اور ان تک پہنچ کر عرض کیا: اے امیر المؤمنین! مجھے بتایا گیا کہ آپ نے ہوا کے بارے میں پوچھا ہے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ہوا اللہ تعالیٰ کی رحمت (روح) میں سے ہے؛ یہ کبھی رحمت لے کر آتی ہے اور کبھی عذاب، پس تم اسے برا بھلا نہ کہو، بلکہ اللہ سے اس کی خیر مانگو اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح الاسناد ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح الاسناد ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا إسماعيل بن محمد بن الفضل، حدثنا جدِّي، حدثنا إسماعيل بن أبي أُوَيس، حدثنا المغيرة بن عبد الرحمن، عن يزيد بن أبي عُبيد، عن سَلَمة بن الأكوع - رَفَعَه إن شاء الله -: أنه كان إذا اشتدَّت الريحُ يقول: "اللهمَّ لَقْحًا لا عَقِيمًا" (1). هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7770 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7770 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب تیز ہوا چلتی تو رسول اللہ ﷺ - ان شاء اللہ اسے مرفوعاً بیان کرتے ہوئے - یہ دعا مانگتے «اللَّهُمَّ لَقْحًا لَا عَقِيمًا» ”اے اللہ! اسے نفع بخش (پھل دار بنانے والی) بنانا، بنجر اور تباہ کن نہیں۔“
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إسحاق بن الحسن الحَرْبي، حدثنا عفّان، حدثنا حمّاد بن سلمة، عن عبد الملك بن عُمير، عن موسى ابن طلحة، عن عائشة: أنَّ رسول الله ﷺ كان يُكثِرُ ذِكرَ خديجةَ، فقلتُ: لقد أخلَفَك الله - وربما قال حماد: أعقبَك الله - من عجوزٍ من عجائز قريشٍ حمراءِ الشِّدقينِ، هَلَكَت في الدَّهر الأول، قالت: فتَمَعَّر وجهُه تمعُّرًا ما كنتُ أراه إلا عند نزول الوحي، وإذا رأى مَخِيلةَ الرَّعد والبرق حتى يَعلَم أرحمةٌ هي أم عذابٌ (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7771 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7771 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا بہت کثرت سے ذکر فرمایا کرتے تھے، میں نے (غیرت میں آ کر) عرض کیا: اللہ نے آپ کو قریش کی بوڑھی عورتوں میں سے ایک ایسی بوڑھی عورت کا نعم البدل عطا فرما دیا ہے (حماد نے کبھی «أخلفك» اور کبھی «أعقبك» کے الفاظ کہے، یعنی اللہ نے ان کے بدلے آپ کو بہتر عطا کر دیا) جو سرخ مسوڑھوں والی تھیں (یعنی بڑھاپے کی وجہ سے دانت گر چکے تھے) اور وہ زمانہ قدیم میں وفات پا چکی ہیں، عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: (یہ سن کر) آپ ﷺ کے چہرے کا رنگ متغیر ہو گیا، ایسا تغیر جو میں نے صرف وحی کے نزول کے وقت یا بادلوں اور بجلی کی کڑک کو دیکھ کر دیکھا تھا یہاں تک کہ آپ ﷺ کو یہ معلوم نہ ہو جاتا کہ یہ بادل رحمت کے ہیں یا عذاب کے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔