أخبرنا عبد الله بن إسحاق الخُزاعي بمكة حرسها الله، حدثنا أبو يحيى بن أبي مسرَّة، أخبرنا نافع بن يزيد، حدثني ابن الهادِ، أنَّ نافعًا حدّثه عن عبد الله بن عمر، أنه سمع رسولَ الله ﷺ يقول: "لا تُبيِّتُنَّ النارَ في بيوتِكم فإنَّها عدوٌّ". فما كان ابن عمر يَرقُدُ حتى لا يدع في البيت نارًا إلَّا أطفأَها، وكان آخرَ أهل البيت رُقَادًا، كان يُصلِّي فإذا فَرَغَ لَم يَنَمْ حتى يُطفئَ السِّراجَ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7765 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7765 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے گھروں میں آگ جلتی نہ چھوڑو کیونکہ یہ دشمن ہے۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہما سونے سے پہلے گھر میں کوئی آگ جلتی نہ چھوڑتے تھے، وہ گھر والوں میں سب سے آخر میں سوتے تھے، وہ نماز پڑھتے اور فارغ ہو کر چراغ بجھائے بغیر نہیں سوتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو [أحمد] (1) محمد بن إسحاق الصَّفَّار العَدْل، حدثنا أحمد بن نصر، أخبرنا عمرو بن طلحة، القَنَّاد، حدثنا أسباط بن نصر، عن سِمَاك بن حَرْب، عن عِكْرمة، عن ابن عباس قال: جاءت فأرةٌ فأخَذَت تَجُرُّ الفَتِيلة، فذهبت الجاريةُ تَزجُرُها، فقال نبيُّ الله ﷺ: "دَعِيها"، فجاءت بها فألقَتْها بينَ يدي رسول الله ﷺ [على الخُمْرة] (2) التي كان قاعدًا عليها، فأحرقَتْ منها موضعَ دِرهَم، فقال رسولُ الله ﷺ: "إذا نمتُم فأطفِئُوا سُرُجَكم، فإنَّ الشيطان يدلُّ مثلَ هذه على هذا فيُحرِقُكم" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7766 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7766 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، ایک چوہیا آئی اور چراغ کی بتی کھینچنے لگی، لونڈی اسے ڈانٹنے لگی تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو۔“ وہ بتی لے کر آئی اور اسے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس چٹائی پر ڈال دیا جس پر آپ بیٹھے تھے، اس سے ایک درہم کے برابر جگہ جل گئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم سونے لگو تو چراغ بجھا دیا کرو، کیونکہ شیطان ایسے جانوروں کو اس طرح کے کام پر اکساتا ہے تاکہ تمہیں جلا ڈالے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔