کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: وہ نیند جسے اللہ ناپسند فرماتا ہے
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا العباس بن الوليد بن مَزْيَد البَيروتي، حدثني أبي حَدَّثَنَا الأوزاعي، أخبرني يحيى بن أبي كَثير (1)، عن محمد ابن إبراهيم، عن قيس الغِفاري، عن أبيه قال: أتانا رسولُ الله ﷺ ونحن في الصُّفَّة بعد المغرب، فقال: "يا فلانُ انطلِقُ مع فلان، ويا فلانُ انطلِقْ مع فلان" حتَّى بقيتُ في خمسة أنا خامسُهم، فقال: "قُوموا معي (1) "ففعلنا فدخَلْنا على عائشةَ وذلك قبل أن ينزِلَ الحجابُ، فقال: "يا عائشةُ، أطعِمينا"، فقرَّبَتْ جَشِيشةً، ثم قال: "يا عائشةُ، أطعِمِينا" فقرَّبَتْ حَيْسًا مثل القَطَاة، ثم قال: "يا عائشةُ، اسقِينا" فجاءت بعُسٍّ، ثم قال: "إنْ شِئتُم نِمتُم عندنا، وإنْ شِئتُم انجَلَيتُم إلى المسجد فنِمتُم فيه". قال: فنِمْنا في المسجد، فأتاني النَّبِيُّ ﷺ في آخرِ الليل، فأصابَني نائمًا على بَطْني، فَرَكَضَني برِجلِه، وقال: "ما لك وهذه النَّومةَ؟ هذه نَومةٌ يكرهُها الله - أو يُبغِضُها الله - " (2).
هذا حديث مختَلفٌ في إسناده على يحيى بن أبي كثير، وآخره أنَّ الصواب قيس بن طِخْفة الغِفاري. وشاهدُه حديث أبي هريرة:
حافظ طلحہ بابر
قیس غفاری اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم مغرب کے بعد صفہ میں موجود تھے کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا: ”اے فلاں! فلاں کے ساتھ چلے جاؤ، اور اے فلاں! تم فلاں کے ساتھ چلے جاؤ“ یہاں تک کہ میں ان پانچ افراد میں سے پانچواں رہ گیا (جنہیں کسی کے ساتھ نہیں بھیجا گیا تھا)، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے ساتھ آؤ“ چنانچہ ہم آپ ﷺ کے ساتھ ہو لیے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے، یہ پردے کے احکام نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عائشہ! ہمیں کھانا کھلاؤ“ تو وہ «جَشِيشَة» ”موٹے پسے ہوئے غلے کا کھانا“ لے آئیں، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عائشہ! ہمیں (مزید) کھانا کھلاؤ“ تو وہ «حَيْسًا» ”کھجور، گھی اور پنیر کا ملیدہ“ لے آئیں جو پرندے جتنا (تھوڑا سا) تھا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عائشہ! ہمیں پانی پلاؤ“ تو وہ دودھ یا مشروب کا ایک بڑا پیالہ «عُسٍّ» لے آئیں، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو ہمارے پاس سو جاؤ اور اگر چاہو تو مسجد کی طرف لوٹ جاؤ اور وہیں سو رہو“۔ راوی کہتے ہیں: ہم مسجد میں سو گئے، تو رات کے آخری حصے میں نبی کریم ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور مجھے پیٹ کے بل سوتا ہوا پایا، تو آپ ﷺ نے مجھے اپنے پاؤں سے ہلایا اور فرمایا: ”تمہاری یہ کیسی نیند ہے؟ یہ ایسی حالت ہے جسے اللہ ناپسند فرماتا ہے - یا فرمایا کہ اللہ اس سے بغض رکھتا ہے -“۔
یحییٰ بن ابی کثیر سے اس کی سند کی روایت میں اختلاف ہے، اور اس کا آخری نتیجہ یہ ہے کہ درست نام قیس بن طِخْفہ غفاری ہے، اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث اس کی شاہد ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأدب / حدیث: 7901
درجۂ حدیث محدثین: حديث حسن
تخریج حدیث «حديث حسن، من أجل قيس الغفاري، وقد اختلف في اسمه واسم أبيه على وجوه كثيرة كما ذكر البخاري في "التاريخ الكبير" 4/ 365» [ترقيم الرساله 7901] [ترقيم الشركة 7807]
حَدَّثَنَا أبو زكريا العَنْبري، حَدَّثَنَا محمد بن عبد السلام، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عيسى بن يونس، عن محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة: أن النَّبِيّ ﷺ مَرَّ برجلٍ مُضطجِعٍ على بَطْنِه، فضربه برجله وقال: "إنَّها ضِجْعةٌ لا يحبُّها الله ﷿" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7709 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کا گزر ایک ایسے شخص کے پاس سے ہوا جو پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا، آپ ﷺ نے اسے اپنے پاؤں سے ٹھوکر (اشارہ) دی اور فرمایا: ”بے شک یہ ایسی حالت میں لیٹنا ہے جسے اللہ عزوجل پسند نہیں فرماتا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأدب / حدیث: 7902
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات غير محمد بن عمرو» [ترقيم الرساله 7902] [ترقيم الشركة 7808] [ترقيم العلميه 7709]
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حَدَّثَنَا هِشام بن علي، حَدَّثَنَا عبد الله بن رَجَاء، حَدَّثَنَا همَّام، عن (1) قَتَادة، عن كَثير بن أبي كَثير، عن أبي عِيَاض، عن أبي هريرة قال: نَهَى رسولُ الله ﷺ أن يَجْلِسَ الرجلُ بين الشمسِ والظِّلِّ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7710 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شخص دھوپ اور سائے کے درمیان (آدھا دھوپ اور آدھا سائے میں) بیٹھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأدب / حدیث: 7903
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 7903] [ترقيم الشركة 7809] [ترقيم العلميه 7710]
حَدَّثَنَا أبو بكر بن أبي دارِمٍ الحافظ بالكوفة، حَدَّثَنَا أحمد بن موسى بن إسحاق التَّميمي، حَدَّثَنَا مِنْجاب بن الحارث، حَدَّثَنَا علي بن مُسهِر، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، عن أبيه قال: رآني النَّبِيُّ ﷺ وأنا قاعدٌ في الشمس، فقال: "تحوّل إلى الظلِّ فإنه مبارَكٌ" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا قیس بن ابی حازم اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: نبی کریم ﷺ نے مجھے دھوپ میں بیٹھے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ”سائے کی طرف منتقل ہو جاؤ کیونکہ یہ برکت والا ہے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأدب / حدیث: 7904
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح دون قوله: "فإنه مبارك"
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قوله: "فإنه مبارك"، فهي زيادة شاذّة لم ترد في أحاديث الثقات الكبار الذين رووه عن إسماعيل بن أبي خالد» [ترقيم الرساله 7904] [ترقيم الشركة 7810]
حَدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا إبراهيم بن مرزوق البصري بمصر، حَدَّثَنَا أبو داود، حَدَّثَنَا شُعْبة، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم قال: رأى النَّبِيُّ ﷺ أَبي وهو قاعدٌ في الشمس، فقال: "تحوَّلْ إلى الظلِّ فإنه مباركٌ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد وإن أرسله شعبةُ، فإِنَّ مِنْجَابَ بن الحارث وعليَّ بن مُسهِر ثقتان.
حافظ طلحہ بابر
قیس بن ابی حازم اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے میرے والد کو دھوپ میں بیٹھے دیکھا تو فرمایا: ”سائے کی طرف منتقل ہو جاؤ کیونکہ یہ برکت والا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اگرچہ شعبہ نے اسے مرسل بیان کیا ہے، لیکن منجاب بن حارث اور علی بن مسہر دونوں ثقہ راوی ہیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأدب / حدیث: 7905
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح دون قوله: "فإنه مبارك" فهي زيادة شاذَّة كما سبق. وإبراهيم بن مرزوق ليس بذاك المتقن
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قوله: "فإنه مبارك" فهي زيادة شاذَّة كما سبق. وإبراهيم بن مرزوق ليس بذاك المتقن، وقد روى الحديث يونس بن حبيب عن أبي داود الطيالسي في "مسنده" (1394) فلم يذكر هذه الزيادة. وروى الحديث أيضًا عن شعبة محمد بن جعفر عند أحمد (15517) فلم يذكرها أيضًا. وهذا الحديث» [ترقيم الرساله 7905] [ترقيم الشركة 7811]