کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: نبی کریم ﷺ کی مجلس میں حاضر ہونے والے تین افراد کا قصہ
أخبرني علي بن عبد الله الحَكِيمي ببغداد، حَدَّثَنَا العباس بن محمد الدُّوري، حَدَّثَنَا خلف بن موسى بن خلف، حَدَّثَنَا أبي، عن قَتَادة، عن أنس بن مالك: أنَّ رسول الله ﷺ [كان] (2) يَعِظُ أصحابَه، فإذا ثلاثةُ نَفَرٍ يمرُّون، فجاء أحدُهم فجلسَ إلى النَّبِيّ ﷺ، ومضى الثاني قليلًا ثم جلسَ، وأما الثالثُ فمضَى على وجهه، فقال النَّبِيُّ ﷺ: "أمّا هذا الذي جاء فجلسَ إلينا، فإنَّه تابَ فتابَ اللهُ عليه، وأمّا الذي مَضَى قليلًا ثم جلس، فإنَّه استَحْيا فاستَحيا الله منه، وأما الذي مَضَى على وجهه، فإِنَّهُ اسْتَعْنَى فاستَغنَى الله عنه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7653 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7653 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کو وعظ فرما رہے تھے کہ تین افراد وہاں سے گزرے، ان میں سے ایک آیا اور نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھ گیا، دوسرا تھوڑی دور جا کر بیٹھ گیا، اور تیسرا اپنی راہ پر چلتا رہا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جہاں تک اس کا تعلق ہے جو آ کر ہمارے پاس بیٹھ گیا تو اس نے توبہ کی اور اللہ نے اس کی توبہ قبول فرما لی، اور وہ جو تھوڑی دور جا کر بیٹھ گیا تو اس نے حیا کی تو اللہ نے بھی اس سے حیا فرمائی، اور رہا وہ جو اپنی راہ پر چلتا رہا تو اس نے بے نیازی دکھائی تو اللہ بھی اس سے بے نیاز ہو گیا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو جعفر عبد الله بن إبراهيم القرشي ببغداد، حَدَّثَنَا موسى بن الحسن بن عبَّاد، حَدَّثَنَا محمد بن مصعب القَرْقَساني، حَدَّثَنَا سلَّام بن مِسكين والمبارك بن فَضَالة، عن الحسن عن الأسود بن سَريع قال: أُتِيَ النَّبِيُّ ﷺ بأعرابيٍّ أَسيرٍ، فقال: أتوبُ إلى الله ﷿ ولا أتوبُ إلى محمد، فقال رسول الله ﷺ: "عَرَفَ الحقَّ لأهلِه" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7654 - ابن مصعب ضعيف
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7654 - ابن مصعب ضعيف
حافظ طلحہ بابر
سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک بدوی قیدی لایا گیا تو اس نے کہا: میں اللہ عزوجل کے حضور توبہ کرتا ہوں اور محمد (ﷺ) کے حضور توبہ نہیں کرتا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے حق کو اس کے اصل حقدار کے لیے پہچان لیا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔