المستدرك على الصحيحين
كتاب التوبة والإنابة— توبہ اور رجوع الی اللہ کے متعلق روایات
حِكَايَةُ ثَلَاثِ نَفَرٍ حَضَرُوا مَجْلِسَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - . باب: نبی کریم ﷺ کی مجلس میں حاضر ہونے والے تین افراد کا قصہ
حدیث نمبر: 7846
أخبرنا أبو جعفر عبد الله بن إبراهيم القرشي ببغداد، حَدَّثَنَا موسى بن الحسن بن عبَّاد، حَدَّثَنَا محمد بن مصعب القَرْقَساني، حَدَّثَنَا سلَّام بن مِسكين والمبارك بن فَضَالة، عن الحسن عن الأسود بن سَريع قال: أُتِيَ النَّبِيُّ ﷺ بأعرابيٍّ أَسيرٍ، فقال: أتوبُ إلى الله ﷿ ولا أتوبُ إلى محمد، فقال رسول الله ﷺ: "عَرَفَ الحقَّ لأهلِه" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7654 - ابن مصعب ضعيفحافظ طلحہ بابر
سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک بدوی قیدی لایا گیا تو اس نے کہا: میں اللہ عزوجل کے حضور توبہ کرتا ہوں اور محمد (ﷺ) کے حضور توبہ نہیں کرتا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے حق کو اس کے اصل حقدار کے لیے پہچان لیا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف، محمد بن مصعب القرقساني ليِّن الحديث، وبه أعلّه الذهبي في "التلخيص"، والحسن - وهو البصري - في سماعه من الأسود بن سريع سود بن سريع خلاف كما سبق بيانه عند الحديث السالف برقم (2598).
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: راوی محمد بن مصعب القرقسانی "لین الحدیث" (کمزور یادداشت والا) ہے، اور امام ذہبی نے "تلخیص" میں اسی بنیاد پر اس پر جرح کی ہے۔ نیز حسن بصری کا اسود بن سریع سے سماع اختلافی ہے، جیسا کہ حدیث نمبر 2598 کے تحت تفصیل گزر چکی ہے۔
وأخرجه أحمد (24/ 15587) عن محمد بن مصعب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام احمد بن حنبل (24/ 15587) نے اسے محمد بن مصعب کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: راوی محمد بن مصعب القرقسانی "لین الحدیث" (کمزور یادداشت والا) ہے، اور امام ذہبی نے "تلخیص" میں اسی بنیاد پر اس پر جرح کی ہے۔ نیز حسن بصری کا اسود بن سریع سے سماع اختلافی ہے، جیسا کہ حدیث نمبر 2598 کے تحت تفصیل گزر چکی ہے۔
وأخرجه أحمد (24/ 15587) عن محمد بن مصعب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام احمد بن حنبل (24/ 15587) نے اسے محمد بن مصعب کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7846 سے ماخوذ ہے۔