المستدرك على الصحيحين
كتاب التوبة والإنابة— توبہ اور رجوع الی اللہ کے متعلق روایات
عَذَابُ هَذِهِ الْأُمَّةِ فِي الْقَتْلِ وَالزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ . باب: اس امت کا عذاب قتل و غارت، زلزلوں اور فتنوں کی صورت میں ہے
حدیث نمبر: 7842
حَدَّثَنَا أبو العباس، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجبار، حَدَّثَنَا أبو بكر بن عيَّاش، عن أبي حَصِين، عن أبي بُرْدة قال: كنتُ عند عُبيد الله بن زياد، فأُتي برؤوس خَوارجَ، فكلما مرُّوا عليه برأس قال: إلى النار، فقال له عبد الله بن يزيد: أوَلا تدري، سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "عذابُ هذه الأمّة جُعِل بأيديها في دُنياها" (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، إنما أخرج مسلم وحده حديثَ طلحة بن يحيى عن أبي بُردة عن أبي موسى: "أمّتي أمّةٌ مرحومة" (4).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7650 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں عبیداللہ بن زیاد کے پاس تھا کہ وہاں خوارج کے سر لائے گئے، جب بھی اس کے سامنے سے کوئی سر گزرتا وہ کہتا: یہ آگ میں جائے گا، تو عبداللہ بن یزید نے اس سے کہا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ”اس امت کا عذاب اس کے اپنے ہاتھوں میں اس کی دنیا ہی میں رکھ دیا گیا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ امام مسلم نے تنہا طلحہ بن یحییٰ کی ابوبردہ سے اور انہوں نے ابوموسیٰ سے ”میری امت امتِ مرحومی ہے“ والی حدیث روایت کی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) حديث مضطرب كسابقه. أبو حَصين هو عثمان بن عاصم بن حُصين الأسدي.
درجۂ حدیث: یہ حدیث بھی پچھلی روایت کی طرح "مضطرب" ہے۔
نوٹ / توضیح: ابو حصین سے مراد عثمان بن عاصم بن حصین الاسدی ہیں۔
(4) الحديث رواه عبد بن حميد (537) عن عبيد الله بن موسى عن طلحة بن يحيى، عن أبي بردة، عن أبيه أبي موسى الأشعري مرفوعًا: "إنَّ هذه الأمّة أمّة مرحومة، عذابها بأيديها، إذا كان يومُ القيامة دُفع إلى كلِّ رجل منهم رجلٌ من أهل الذِّمة - أو من أهل الشرك - فيقال: هذا فداؤك من النار"، فخرّج مسلم في "صحيحه" شطره الثاني برقم (2767)، ولم يخرّج شطره الأول، فظن الحاكم أنَّ مسلمًا خرّج الحديث بشطريه. وسيأتي حديث أبي موسى عند المصنّف برقم (8577)، ويأتي تخريجه هناك.
حوالہ / مصدر: عبد بن حمید (537) نے ابو موسیٰ اشعریؓ سے مرفوعاً یہ روایت نقل کی ہے کہ "یہ امت مرحوُمہ ہے، اس کا عذاب اس کے اپنے ہاتھوں میں ہے..."۔
فنی نکتہ / علّت: امام مسلم نے اس کا صرف دوسرا حصہ (فدیہ والا) نمبر 2767 پر روایت کیا ہے، پہلا حصہ نہیں، مگر امام حاکم کو یہ وہم ہوا کہ مسلم نے اسے مکمل روایت کیا ہے۔ اس کی مزید تفصیل آگے نمبر 8577 پر آئے گی۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث بھی پچھلی روایت کی طرح "مضطرب" ہے۔
نوٹ / توضیح: ابو حصین سے مراد عثمان بن عاصم بن حصین الاسدی ہیں۔
(4) الحديث رواه عبد بن حميد (537) عن عبيد الله بن موسى عن طلحة بن يحيى، عن أبي بردة، عن أبيه أبي موسى الأشعري مرفوعًا: "إنَّ هذه الأمّة أمّة مرحومة، عذابها بأيديها، إذا كان يومُ القيامة دُفع إلى كلِّ رجل منهم رجلٌ من أهل الذِّمة - أو من أهل الشرك - فيقال: هذا فداؤك من النار"، فخرّج مسلم في "صحيحه" شطره الثاني برقم (2767)، ولم يخرّج شطره الأول، فظن الحاكم أنَّ مسلمًا خرّج الحديث بشطريه. وسيأتي حديث أبي موسى عند المصنّف برقم (8577)، ويأتي تخريجه هناك.
حوالہ / مصدر: عبد بن حمید (537) نے ابو موسیٰ اشعریؓ سے مرفوعاً یہ روایت نقل کی ہے کہ "یہ امت مرحوُمہ ہے، اس کا عذاب اس کے اپنے ہاتھوں میں ہے..."۔
فنی نکتہ / علّت: امام مسلم نے اس کا صرف دوسرا حصہ (فدیہ والا) نمبر 2767 پر روایت کیا ہے، پہلا حصہ نہیں، مگر امام حاکم کو یہ وہم ہوا کہ مسلم نے اسے مکمل روایت کیا ہے۔ اس کی مزید تفصیل آگے نمبر 8577 پر آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7842 سے ماخوذ ہے۔