کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: اللہ کی سو رحمتوں کا تذکرہ اور ان کی تقسیم کا بیان
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا يزيد بن زُرَيع، حَدَّثَنَا داود بن أبي هِند، حَدَّثَنَا أبو عثمان النَّهْدي، عن سلمان الفارسي، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "إِنَّ الله خلقَ يومَ خلقَ السماواتِ والأرضَ مئةَ رحمةٍ، كلُّ رحمةٍ مِلءُ ما بينَ السماءِ والأرض، فقَسَمَ منها رحمةً بين الخلائق بها تَعطِفُ الوالدة على ولدِها، وبها يشربُ الوحشُ والطيرُ الماءَ، وبها يتراحَمُ الخلائقُ، فإذا كان يومُ القيامة قَصَرَها على المتقينَ، وزادَهم بِضعًا وتسعينَ" (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتَّفقا على حديث سليمان التَّيمي عن أبي عثمان عن سليمان مختصرًا مثل حديث الزُّهْري عن سعيد عن (1) أبي هريرة (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جس دن آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اسی دن سو رحمتیں پیدا فرمائیں، ہر رحمت اتنی وسعت رکھتی ہے جتنا زمین و آسمان کے درمیان خلا ہے، اللہ نے ان میں سے ایک رحمت تمام مخلوقات کے درمیان تقسیم فرمائی ہے جس کی وجہ سے ماں اپنے بچے پر شفقت کرتی ہے، جنگلی جانور اور پرندے پانی پیتے ہیں اور اسی کی بدولت تمام مخلوقات ایک دوسرے پر رحم کرتی ہیں، پس جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ (اس ایک رحمت کو بھی) اپنے پاس سمیٹ کر متقین کے لیے خاص کر لے گا اور ان کے لیے اسے ننانوے رحمتوں کے ساتھ مزید بڑھا دے گا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التوبة والإنابة / حدیث: 7820
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات، إلَّا أنه قد اختلف على أبي عثمان النهدي» [ترقيم الرساله 7820] [ترقيم الشركة 7727]
حدثني علي بن حَمْشاذ العَدْل، حَدَّثَنَا العباس بن الفضل ومحمد بن غالب، قالا: حَدَّثَنَا بكّار بن محمد السِّيرِيني (3)، حَدَّثَنَا عَوف (4) بن أبي جَميلة، عن محمد بن سِيرين، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "إِنَّ الله مئةَ رحمةٍ، قَسَمَ رحمةً بين أهل الدنيا وَسِعَتهم إلى آجالهم، وأَخَّر تسعًا وتسعينَ رحمةً لأوليائِه، وإنَّ الله تعالى قابضٌ تلك الرحمةَ التي قَسَمَها بين أهل الدنيا إلى التسعِ والتسعينَ فيُكمِلُها مئةَ رحمةٍ لأوليائه يومَ القيامة" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں، اس نے ایک رحمت دنیا والوں کے درمیان تقسیم فرمائی جو ان کی زندگیوں کے خاتمے تک انہیں کافی ہے، اور ننانوے رحمتیں اپنے اولیاء کے لیے (آخرت میں) محفوظ کر رکھی ہیں، اور اللہ تعالیٰ اس ایک رحمت کو بھی، جو اس نے دنیا والوں میں تقسیم فرمائی تھی، قیامت کے دن ان ننانوے کے ساتھ ملا لے گا تاکہ اپنے اولیاء کے لیے سو رحمتیں مکمل فرما دے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التوبة والإنابة / حدیث: 7821
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل بكار بن محمد السيريني، وقد توبع» [ترقيم الرساله 7821] [ترقيم الشركة 7728]
أخبرني أبو بكر محمد بن عبد الله الشَّافعي، حَدَّثَنَا محمد بن مَسْلَمة الواسطي ومحمد بن رِبْح السَّمَّاك، قالا: حَدَّثَنَا يزيد بن هارون، أخبرنا سعيد بن إياس الجُرَيري، عن أبي عبد الله الجَسْري، حَدَّثَنَا جُندُب قال: جاء أعرابيٌّ فأناخ راحلتَه ثم عَقَلَها، فصلَّى خلفَ رسول الله ﷺ، فلما سلَّم رسولُ الله ﷺ أتى راحلتَه فأطلقَ عِقالَها ثم رَكِبَها (2)، ثم نادى: اللهمَّ ارحَمْني ومحمدًا ولا تُشرِكْ في رحمتنا أحدًا، فقال النَّبِيُّ ﷺ: "أتقولونَ: هو أضلُّ أم بَعِيرُه؟ ألم تَسمَعوا ما قال؟ " قالوا: بلى، قال: "لقد حَظَرَ رحمةَ الله واسعةً، إِنَّ الله خَلَقَ مئةَ رحمةٍ، فأنزل رحمةً تَعاطَفُ بها الخلائقُ جِنُّها وإنسُها وبهائمُها، وعنده تسعٌ وتسعون، تقولون: هو أضلُّ أم بعيرُه؟ " (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7630 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی آیا، اس نے اپنی اونٹنی بٹھا کر اسے باندھ دیا، پھر رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی، جب رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیرا تو وہ اپنی اونٹنی کے پاس گیا، اس کا بندھن کھولا، اس پر سوار ہوا اور پکار کر کہنے لگا: ”اے اللہ! مجھ پر اور محمد (ﷺ) پر رحم فرما اور ہماری اس رحمت میں کسی اور کو شریک نہ کر“، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے، یہ زیادہ بھٹکا ہوا ہے یا اس کا اونٹ؟ کیا تم نے نہیں سنا جو اس نے کہا؟“ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے اللہ کی وسیع رحمت کو محدود کر دیا، اللہ نے سو رحمتیں پیدا کی ہیں، پھر ایک رحمت نازل فرمائی جس کی وجہ سے تمام مخلوقات، جنات، انسان اور چوپائے آپس میں ایک دوسرے پر شفقت کرتے ہیں، جبکہ ننانوے رحمتیں اللہ کے پاس محفوظ ہیں، (اب بتاؤ) یہ زیادہ بھٹکا ہوا ہے یا اس کا اونٹ؟“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التوبة والإنابة / حدیث: 7822
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ليّن من أجل أبي عبد الله الراوي عن جندب
تخریج حدیث «إسناده ليّن من أجل أبي عبد الله الراوي عن جندب، وقد سلف الكلام عليه برقم (188)» [ترقيم الرساله 7822] [ترقيم الشركة 7729] [ترقيم العلميه 7630]