المستدرك على الصحيحين
كتاب التوبة والإنابة— توبہ اور رجوع الی اللہ کے متعلق روایات
ذِكْرُ مِائَةِ رَحْمَةٍ لِلَّهِ وَتَقْسِيمِهَا . باب: اللہ کی سو رحمتوں کا تذکرہ اور ان کی تقسیم کا بیان
أخبرني أبو بكر محمد بن عبد الله الشَّافعي، حَدَّثَنَا محمد بن مَسْلَمة الواسطي ومحمد بن رِبْح السَّمَّاك، قالا: حَدَّثَنَا يزيد بن هارون، أخبرنا سعيد بن إياس الجُرَيري، عن أبي عبد الله الجَسْري، حَدَّثَنَا جُندُب قال: جاء أعرابيٌّ فأناخ راحلتَه ثم عَقَلَها، فصلَّى خلفَ رسول الله ﷺ، فلما سلَّم رسولُ الله ﷺ أتى راحلتَه فأطلقَ عِقالَها ثم رَكِبَها (2)، ثم نادى: اللهمَّ ارحَمْني ومحمدًا ولا تُشرِكْ في رحمتنا أحدًا، فقال النَّبِيُّ ﷺ: "أتقولونَ: هو أضلُّ أم بَعِيرُه؟ ألم تَسمَعوا ما قال؟ " قالوا: بلى، قال: "لقد حَظَرَ رحمةَ الله واسعةً، إِنَّ الله خَلَقَ مئةَ رحمةٍ، فأنزل رحمةً تَعاطَفُ بها الخلائقُ جِنُّها وإنسُها وبهائمُها، وعنده تسعٌ وتسعون، تقولون: هو أضلُّ أم بعيرُه؟ " (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7630 - صحيحسیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی آیا، اس نے اپنی اونٹنی بٹھا کر اسے باندھ دیا، پھر رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی، جب رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیرا تو وہ اپنی اونٹنی کے پاس گیا، اس کا بندھن کھولا، اس پر سوار ہوا اور پکار کر کہنے لگا: ”اے اللہ! مجھ پر اور محمد (ﷺ) پر رحم فرما اور ہماری اس رحمت میں کسی اور کو شریک نہ کر“، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے، یہ زیادہ بھٹکا ہوا ہے یا اس کا اونٹ؟ کیا تم نے نہیں سنا جو اس نے کہا؟“ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے اللہ کی وسیع رحمت کو محدود کر دیا، اللہ نے سو رحمتیں پیدا کی ہیں، پھر ایک رحمت نازل فرمائی جس کی وجہ سے تمام مخلوقات، جنات، انسان اور چوپائے آپس میں ایک دوسرے پر شفقت کرتے ہیں، جبکہ ننانوے رحمتیں اللہ کے پاس محفوظ ہیں، (اب بتاؤ) یہ زیادہ بھٹکا ہوا ہے یا اس کا اونٹ؟“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں "كبها" کے الفاظ مروی ہیں۔ اس کا تعلق اہل عرب کے محاورے "كبَّ راحلتَه" سے ہو سکتا ہے، جس کا مطلب ہے "سواری کو راستے پر جمائے رکھنا (راستہ لازم پکڑنا)"، جیسا کہ
حوالہ / مصدر: لسان العرب (مادہ: ک ب ب) میں مذکور ہے۔
(3) إسناده ليّن من أجل أبي عبد الله الراوي عن جندب، وقد سلف الكلام عليه برقم (188).
درجۂ حدیث: اس کی سند "لَیِّن" (کمزور) ہے، کیونکہ اس میں جندب سے روایت کرنے والا راوی ابو عبد اللہ غیر معروف/کمزور ہے۔
حوالہ / مصدر: اس راوی کے بارے میں تفصیلی کلام پہلے نمبر (188) پر گزر چکا ہے۔