حدیث نمبر: 7800
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا همام بن يحيى، عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة قال: كان قاصٌّ بالمدينة يُقال له: عبد الرحمن بن أبي عَمْرة، فسمعتُه يقول: سمعتُ أبا هريرة يقول: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "إنَّ عبدًا أصابَ ذنبًا، فقال: يا ربِّ، أذنبتُ ذنبًا فاغفِرْ لي، فقال له ربُّه: عَلِمَ عبدي أنَّ له ربًّا يغفِرُ الذنبَ ويأخذُ به، فغفرَ له، ثم مَكَثَ ما شاء اللهُ، ثم أذنب ذنبًا آخر، فقال: يا ربِّ، أذنبتُ ذنبًا فاغفِرْ لي، فقال ربُّه ﷿: عَلِمَ عبدي أنَّ له ربًّا يغفِرُ الذنب ويأخذُ به، قد غفرتُ لعبدي، فلْيَعْمَلْ ما شاءَ، ثم عاد فأذنبَ ذنبًا، فقال: ربِّ اغفِرْ لي ذنبي، فقال الله ﵎: أذنب عبدي ذنبًا فعَلِمَ أنَّ له ربًّا يغفِرُ الذنب ويأخذُ بالذنب، اعمَلْ ما شئتَ قد غفرتُ لك" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7608 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”ایک بندے سے گناہ سرزد ہوا تو اس نے عرض کیا: اے میرے رب! مجھ سے گناہ ہو گیا ہے، مجھے معاف فرما دے، تو اس کے رب نے فرمایا: میرے بندے کو یہ علم ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ معاف بھی کرتا ہے اور اس پر پکڑ بھی کرتا ہے، چنانچہ اللہ نے اسے معاف کر دیا، پھر وہ جب تک اللہ نے چاہا (گناہوں سے) رکا رہا، پھر اس سے دوبارہ کوئی گناہ ہوا تو اس نے عرض کیا: اے میرے رب! مجھ سے گناہ ہو گیا ہے مجھے معاف فرما دے، تو اس کے رب عزوجل نے فرمایا: میرے بندے کو علم ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ معاف بھی کرتا ہے اور اس پر پکڑ بھی کرتا ہے، میں نے اپنے بندے کو معاف کر دیا، اب وہ جو چاہے کرے، پھر اس نے تیسری بار گناہ کیا اور عرض کیا: رب! میرا گناہ معاف کر دے، تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے نے گناہ کیا اور اسے یہ علم ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ معاف کرتا ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے، (اے بندے!) تو جو چاہے کر میں نے تجھے معاف کر دیا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التوبة والإنابة / حدیث: 7800
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 7800] [ترقيم الشركة 7707] [ترقيم العلميه 7608]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. إبراهيم بن عبد الله: هو ابن يزيد السعدي.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
اہم نکتہ: ابراہیم بن عبداللہ سے مراد "ابراہیم بن عبداللہ بن یزید السعدی" ہیں۔
وأخرجه أحمد 13/ (7948)، وابن حبان (622) من طريق يزيد بن هارون بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 13/ (7948) اور امام ابن حبان (622) نے یزید بن ہارون کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وليس عندهما قوله: "فليعمل ما شاء" في المرة الثانية، وكذا باقي الطرق.
فنی نکتہ / علّت: ان دونوں محدثین (احمد و ابن حبان) کے ہاں دوسری مرتبہ "فلیعمل ما شاء" (پس وہ جو چاہے عمل کرے) کے الفاظ موجود نہیں ہیں، اور باقی طرق کا بھی یہی حال ہے۔
وأخرجه أحمد 15/ (9256) و 16/ (10380)، والبخاري (7507)، ومسلم (2758) (30) من طرق عن همام بن يحيي، به فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (9256، 10380)، امام بخاری (7507) اور امام مسلم (2758/30) نے ہمام بن یحییٰ کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: امام حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کا "ذہول" ہے (کیونکہ یہ بخاری و مسلم دونوں میں پہلے ہی موجود ہے)۔
وأخرجه أحمد 16/ (10379)، ومسلم (2758) (29)، والنسائي (10180)، وابن حبان (625) من طرق عن حماد بن سلمة، عن إسحاق بن عبد الله، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (10379)، امام مسلم (2758/29)، امام نسائی (10180) اور امام ابن حبان (625) نے حماد بن سلمہ کے مختلف طریقوں سے اسحاق بن عبداللہ کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
قال النووي في "شرح مسلم": لو تكرر الذنب مئة مرة أو ألف مرة أو أكثر، وتاب في كل مرة قُبِلَت توبته، وسقطت ذنوبه، ولو تاب عن الجميع توبة واحدة بعد جميعها صحَّت توبته.
اہم نکتہ: امام نووی رحمہ اللہ "شرح مسلم" میں فرماتے ہیں کہ اگر گناہ سو مرتبہ، ہزار مرتبہ یا اس سے بھی زیادہ دہرایا جائے اور انسان ہر مرتبہ (سچی) توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول کر لی جائے گی اور اس کے گناہ مٹ جائیں گے۔ اسی طرح اگر وہ ان تمام گناہوں کے بعد ایک ہی مرتبہ توبہ کر لے تب بھی اس کی توبہ درست و صحیح تسلیم کی جائے گی۔
قول الله ﷿ للذي تكرر ذنبه: "اعمل ما شئت فقد غفرت لك معناه: ما دمتَ تذنب ثم تتوب غفرتُ لك. وانظر "فتح الباري" 24/ 458 - 461.
نوٹ / توضیح: اللہ عزوجل کا اس شخص کے بارے میں فرمان جس نے بار بار گناہ کیا کہ "جو چاہے کر، میں نے تجھے بخش دیا"، اس کا مفہوم یہ ہے کہ جب تک تو گناہ کرتا رہے گا اور پھر توبہ کرتا رہے گا، میں تجھے معاف کرتا رہوں گا۔
حوالہ / مصدر: تفصیل کے لیے دیکھیے "فتح الباری" جلد 24، صفحات 458 - 461۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7800 سے ماخوذ ہے۔