کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اسلام میں "فرع" اور "عتیرہ" (دورِ جاہلیت کی مخصوص قربانیاں) کی کوئی حقیقت نہیں
أخبرنا الحسن بن يعقوب، حدثنا يحيى بن أبي طالب، أخبرنا عبد الوهاب، أخبرنا خالد، عن أبي المليح، عن نُبَيشةَ قال: سأل رجلٌ النبيَّ ﷺ فقال: يا رسولَ الله، إِنَّا كُنَّا نَعتِرُ عَتِيرةً في الجاهلية في رجبٍ، فما تأمرُنا؟ فقال رسول الله ﷺ: "اذْبَحُوا للهِ في أيِّ شهرٍ ما كان، وبَرُّوا اللهَ وأطعِمُوا" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7582 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7582 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا نبیشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم دورِ جاہلیت میں ماہِ رجب میں «عَتِيرة» (ایک مخصوص قربانی) کیا کرتے تھے، تو اب آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اللہ کے لیے کسی بھی مہینے میں ذبح (قربانی) کرو، اور اللہ کے لیے نیکی کرو اور (لوگوں کو) کھانا کھلاؤ۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا محمد بن الفَرَج، حدثنا حجَّاج بن محمد، حدثنا ابن جُرَيج، عن ابن خُثَيم، عن يوسف بن ماهَكَ، عن حَفْصة بنت عبد الرحمن، عن عائشة: أنَّ النبي ﷺ أمرَ في الفَرَع في كلِّ خمسةٍ واحدةً (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7583 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7583 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے «فَرَع» (اونٹنی کے پہلے بچے کی قربانی) کے بارے میں حکم دیا کہ ہر پانچ (اونٹوں) میں سے ایک کی قربانی کی جائے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعْراني، حدثنا جدِّي، حدثنا أبو بكر بن شَيْبة الحِزَامي، حدثنا داود بن قيس الفرَّاء، قال: سمعتُ عمرو بن شعيب يُحدِّث عن أبيه، عن جدِّه عبد الله بن عمرو قال: سُئِلَ رسولُ الله ﷺ عن الفَرَع، فقال: "الفَرَعُ حقٌّ، وأن تتركَه حتى يكونَ ابنَ مَخَاضٍ أو ابنَ لَبُونٍ يُتَحمَّلُ عليه في سبيل الله، أو تُعطيَه أرملةً، خيرٌ من أن تذبحَه يَلصَقُ لحمُه بوَبَرِه وتُولِّهَ ناقتَك" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7584 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7584 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے «فَرَع» کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”«فَرَع» (کرنا) حق ہے، لیکن اسے اس وقت تک چھوڑ دینا یہاں تک کہ وہ «ابن مَخَاضٍ» (ایک سال کا) یا «ابن لَبُونٍ» (دو سال کا) ہو جائے اور اسے اللہ کی راہ میں سواری کے لیے استعمال کیا جائے، یا وہ کسی بیوہ کو دے دیا جائے، یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ تم اسے (بچپن ہی میں) ذبح کر دو کہ اس کا گوشت اس کی کھال سے چمٹا ہوا ہو (یعنی وہ بالکل دبلا ہو) اور تم اپنی اونٹنی کو (بچے کی جدائی کے صدمے میں) تڑپاؤ۔“
وأخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا ابن جُريج، أخبرني عمرو بن دينار، أنَّ ابنَ أبي عمَّار أخبره عن أبي هريرة، قال في الفَرَعة: هي حقٌّ، ولا تَذبَحْها وهي غَرَاةٌ من الغِرَاء (2) تَلصَقُ في يدك، ولكن أَمكِنْها من اللَّبن حتى إذا كانت من خِيَار المالِ فاذبَحْها (3).
هذا حديث صحيح بهذا الإسناد، والحديث المُسنَد قبل هذا صحيحٌ على ما اشترطتُ لهذا الكتاب.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7585 - صحيح
هذا حديث صحيح بهذا الإسناد، والحديث المُسنَد قبل هذا صحيحٌ على ما اشترطتُ لهذا الكتاب.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7585 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے «فَرَع» کے بارے میں فرمایا: یہ حق ہے، لیکن تم اسے اس وقت ذبح نہ کرو جب وہ «غَرَاة» (یعنی بالکل دبلا پتلا اور ناتواں) ہو کہ اس کا لیس دار مادہ تمہارے ہاتھوں سے چپک جائے، بلکہ اسے (ماں کا) دودھ پینے کا موقع دو یہاں تک کہ جب وہ بہترین مال بن جائے تو اسے ذبح کرو۔
یہ حدیث اس سند کے ساتھ صحیح ہے، اور اس سے پہلے والی مسند حدیث بھی میری ان شرائط پر صحیح ہے جو میں نے اس کتاب کے لیے مقرر کی ہیں۔
یہ حدیث اس سند کے ساتھ صحیح ہے، اور اس سے پہلے والی مسند حدیث بھی میری ان شرائط پر صحیح ہے جو میں نے اس کتاب کے لیے مقرر کی ہیں۔
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه، حدثنا الحسين بن الفضل البَجَلي وإسحاق بن الحسن (1) الحَرْبي، قالا: حدثنا عفّان بن مسلم، حدثنا يحيى ابن زُرَارة بن كَريم السَّهْمي، حدثني أبي، عن جدِّه الحارث بن عمرو السَّهْمي قال: رأيتُ رسولَ الله ﷺ فقلتُ: استغفِرْ لي، فقال: "غَفَرَ اللهُ لكم". قلتُ له ذلك مرةً أو مرتين، فقال رجلٌ: يا رسولَ الله، ما تَرَى في العَتائرِ والفَرائع؟ فقال رسول الله ﷺ: "مَن شَاء عَتَرَ ومَن شاء لم يَعتِرْ، ومَن شاء فَرَّعَ ومَن شاء لم يُفرِّعْ، وفي الشاة أُضحيَّتُها" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ الحارث بن عمرو السَّهمي صحابي مشهور، وولدُه بالبصرة مشهورون. وقد حدَّث عبد الرحمن بن مَهدي وسَلْم بن قُتيبة وغيرهم عن يحيى بن زُرَارة، وقد اتفق الشيخانِ ﵄ على الزُّهْري (3) عن سعيد بن المسيّب عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "لا فَرَعَ ولا عَتِيرةَ" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7586 - صحيح على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ الحارث بن عمرو السَّهمي صحابي مشهور، وولدُه بالبصرة مشهورون. وقد حدَّث عبد الرحمن بن مَهدي وسَلْم بن قُتيبة وغيرهم عن يحيى بن زُرَارة، وقد اتفق الشيخانِ ﵄ على الزُّهْري (3) عن سعيد بن المسيّب عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "لا فَرَعَ ولا عَتِيرةَ" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7586 - صحيح على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حارث بن عمرو سہمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تو میں نے عرض کیا: (اے اللہ کے رسول ﷺ!) میرے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تمہاری مغفرت فرمائے۔“ میں نے ایک یا دو بار یہی عرض کیا، پھر ایک شخص نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ «عَتائر» اور «فَرائع» کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو چاہے عتیرہ کرے اور جو چاہے نہ کرے، اور جو چاہے فرع کی قربانی کرے اور جو چاہے نہ کرے، اور بکری (کی قربانی) ہی کافی ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے کیونکہ حارث بن عمرو سہمی مشہور صحابی ہیں اور ان کی اولاد بصرہ میں معروف ہے، جبکہ شیخین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہ کوئی فرع ہے اور نہ عتیرہ (یعنی اسلام میں ان کی وہ حیثیت نہیں رہی جو جاہلیت میں تھی)۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے کیونکہ حارث بن عمرو سہمی مشہور صحابی ہیں اور ان کی اولاد بصرہ میں معروف ہے، جبکہ شیخین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہ کوئی فرع ہے اور نہ عتیرہ (یعنی اسلام میں ان کی وہ حیثیت نہیں رہی جو جاہلیت میں تھی)۔“